اسلام 24/7 : عراق کی اسلامی مزاحمت نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نئی امریکی و اسرائیلی جارحیت کی صورت میں وہ ایران کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ اور یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق ہفتے کو جاری بیان میں مزاحمتی محاذ نے ایران کے خلاف صہیونی امریکی جارحیت کو حق اور باطل کے درمیان معرکہ قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’حق کا ساتھ دینا اور شر کی قوتوں کو شکست دینا فطرت کا تقاضا ہے، اور ایران کو درپیش صہیونی امریکی جارحیت حق اور باطل کے محاذوں کے درمیان کشمکش کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔‘‘
مزید پڑھیں : عراقی نوجوان ہر سال امریکی پرچم جلائیں، حکومت امریکی خلاف ورزیوں کا جواب دے، کتائب حزب اللہ رہنما العساف
عراقی مزاحمت کے مطابق امریکی دشمن عراق کی خودمختاری کے خلاف جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان کے مطابق 30 ستمبر سے 23 اکتوبر کے درمیان امریکی جنگی اور جاسوس طیاروں کی جانب سے عراقی فضائی حدود کی 171 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
مزاحمتی محاذ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے فیصلے امریکی مرضی اور احکامات کے تحت کیے گئے، اور ایسی صورتحال میں ’’مکمل قومی خودمختاری‘‘ کی بات عراقی عوام کی توہین ہے۔
واضح رہے کہ ‘المسیرہ’ کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عراقی حکومت نے حال ہی میں ایران کے ساتھ الشیب سرحدی گزرگاہ بند کی اور شہری فضائی آمدورفت عارضی طور پر روکی، جبکہ امریکی قیادت والا اتحاد 30 ستمبر کو عراق سے اپنا مشن ختم کر چکا ہے۔