اسلام 24/7 : لبنان کے سابق وزیر مصطفیٰ بیرم نے کہا ہے کہ مزاحمت نے کسی بھی ممکنہ حل میں اپنا بنیادی مقام حاصل کر لیا ہے، جبکہ مکمل انخلا، قیدیوں کی رہائی، عوام کی واپسی اور تعمیر نو پر کوئی سودا نہیں ہو سکتا۔ لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق انہوں نے یہ بات نبطیہ کی حسینیہ میں زوطر الشرقیہ کے شہداء کی یاد میں حزب اللہ کی تقریب سے خطاب میں کہی۔
بیرم نے صہیونی منصوبے کو ’’توسیع پسندانہ اور مجرمانہ منصوبہ‘‘ قرار دیا جو کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا، اور کہا کہ مزاحمت اور ایران کی استقامت نے اس کے اہم اہداف ناکام بنا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں : جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری: طیبہ اور خیام میں مکانات دھماکوں سے مسمار، شبعا میں بلڈوزروں سے نئی سڑک کی تعمیر
سابق وزیر نے لبنانی حکام کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ساتھ بےسود مذاکرات اسے وہ قانونی جواز دیتے ہیں جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی فوج کو دشمن کے مقاصد کا آلہ نہیں بننا چاہیے، اور جب تک قبضہ باقی ہے مزاحمت کو کسی بیرونی جواز کی ضرورت نہیں۔
ادھر لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے ‘المنار’ نے بتایا کہ اتوار کو اسرائیلی توپخانے نے المنصوری، مجدل زون، ان سے ملحقہ وادیوں اور حداثا کو نشانہ بنایا، جبکہ وادی الحجیر پر اسرائیلی فضائی حملہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ بیرم کے مطابق امریکا دباؤ ڈالنے یا قائل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور صہیونی حکومت کا زوال یقینی ہے، جبکہ فلسطین اپنے اصل باشندوں کو واپس ملے گا۔