اسلام 24/7 : ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی طاقت سے اجازت نہیں مانگتا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ کے مطابق انہوں نے ’’ایران دھمکیوں سے ختم نہیں ہوگا‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر جاری کی۔
مہاجرانی نے لکھا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام سمجھ لیں کہ ایران کی تقدیر ان کی خواہشات کے مطابق نہیں لکھی جاتی۔ ان کے بقول ’’دھمکیوں کو دہرانے سے یہ حقیقت نہیں بدلتی، جیسے زیادہ زور سے بولنے سے کوئی دعویٰ حقیقت نہیں بن جاتا۔‘‘
مزید پڑھیں : ایران کا نیا آپریشنل منصوبہ دشمن کے جانے پہچانے اصولوں پر نہیں چلے گا، اگلا جواب زیادہ تباہ کن ہوگا، محسن رضائی
انہوں نے کہا کہ ’’ہم جنگ کے دکھ کو جانتے ہیں، اسی لیے ذمہ داری کے احساس کے ساتھ امن کی بات کرتے ہیں اور جنگ روکنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کوئی اس ذمہ داری کو ایران کے دفاع میں ہچکچاہٹ نہ سمجھے۔‘‘
یہ بیان ترکی میں امریکی سفیر ٹام بیرک کے اس انٹرویو کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ ’’بالکل‘‘ ممکن ہے۔ لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق جب صدر ٹرمپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’اگر ایسا ہے تو مجھے اس کا کچھ علم نہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ‘المنار’ کے مطابق بیرک نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر معاہدہ نہ ہوا تو مزید کارروائی کی جائے گی، تاہم ان کے بقول مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔