اسلام 24/7 : یمن کے قومی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ صنعاء نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعاء نے بارہا پہلے سے طے شدہ روڈ میپ اور فوری انسانی اقدامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا، لیکن ریاض اپنے وعدوں سے بھاگ رہا ہے۔
یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق محمد عبدالسلام نے کہا کہ سعودی عرب معاشی اور انسانی دباؤ کو ہتھیار بنا کر صنعاء سے رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق صنعاء نے 13 جولائی 2026 کو صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی حملے سے پہلے ہی ریاض کو خبردار کر دیا تھا، اور اسی حملے نے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے دور کا خاتمہ کر دیا۔
مزید پڑھیں : سلامتی کونسل کا بیان مایوس کن اور سعودی عرب کے حق میں جانبدار ہے، یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ الراعی
محمد عبدالسلام کے مطابق بعد میں عمان نے مذاکرات میں سہولت کے لیے پانچ روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جسے صنعاء نے تین دن کے اندر اس شرط پر قبول کر لیا کہ سعودی عرب انسانی مطالبات پورے کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض نے تقریباً 21 دن بعد جواب دیا اور اس دوران مغربی ساحل پر فوجی نقل و حرکت اور کشیدگی جاری رہی۔ ان کے بقول یہ تاخیر اور اضافی شرائط ظاہر کرتی ہیں کہ سعودی عرب کشیدگی کم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔
‘المسیرہ’ کے مطابق یمن نے ’’ایئرپورٹ کے بدلے ایئرپورٹ، محاصرے کے بدلے محاصرہ اور کشیدگی کے بدلے کشیدگی‘‘ کی جو مساوات اعلان کر رکھی ہیں ان کے تحت سعودی اقدامات کا جواب اس وقت تک دیا جاتا رہے گا جب تک جارحیت ختم اور محاصرہ نہیں اٹھایا جاتا۔ دوسری جانب خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے منامہ اجلاس کے اعلامیے میں یمن سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور انصاراللہ پر اسلحے کی پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2015 سے جاری سعودی فوجی مداخلت نے یمن کے شہری ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے اور فضائی حملوں اور پابندیوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ صنعاء اس سے قبل سلامتی کونسل کے حالیہ بیان کو بھی سعودی عرب کے حق میں جانبدار قرار دے چکا ہے۔