اسلام 24/7 : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایران کے بھی کچھ کام ادھورے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر لکھا: ’’پچھلی بار جب تم ‘کام تمام’ کرنا چاہتے تھے تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔ دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہو؟ شوق سے آؤ۔ لیکن ہوشیار رہنا، ہمارے بھی کچھ کام ادھورے ہیں‘‘۔
مزید پڑھیں : ایران دباؤ میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، ٹھوس ضمانتوں کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں، او آئی سی اجلاس میں عراقچی
اپنی پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ نے مزید لکھا: ’’نیتن یاہو جیل سے باہر رہنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ کی طرف لے جا رہا ہے، چاہے اس کے نتائج اسرائیل کے لیے کچھ بھی ہوں، امریکی صدر کی تو بات ہی چھوڑ دیں‘‘۔ ترک خبر رساں ادارے ‘اناطولیہ’ نے بھی عراقچی کے اس الزام کی خبر دی ہے کہ نیتن یاہو قید سے بچنے کے لیے امریکا کو نئی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کا سامنا کرنے والے نیتن یاہو ملک کے اندر قانونی مشکلات اور سیاسی بحران کے باوجود ایران کے ساتھ نئے فوجی تصادم پر زور دے رہے ہیں۔ اسرائیل میں اس ماہ عام انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پیر کو تہران کا دورہ کر رہے ہیں، جس میں دوطرفہ معاہدوں پر عملدرآمد کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر مشاورت ہوگی۔ عراقچی اس سے قبل بغداد میں او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ ایران دباؤ میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔