اسلام 24/7 : ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ غیر ملکی دوروں اور مختلف ممالک کے وزراء اور سربراہان سے ملاقاتوں میں وہ لوگ ایرانی مسلح افواج کی طاقت، عزت اور سربلندی کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو پارلیمنٹ میں نامزد وزیر دفاع مہرداد اخلاقی کتابچی کی اہلیت کا جائزہ لینے کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے خطاب کا آغاز شہید رہبر انقلاب، دفاع مقدس کے شہداء، 40 روزہ جنگ کے شہداء، سائنسدانوں اور طلبہ کے ساتھ ساتھ شہید وزیر دفاع میجر جنرل نصیر زادہ کو خراج عقیدت پیش کر کے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے دفاع کے دوران مسلح افواج نے ایثار، قربانی اور صلاحیت کے ایسے مناظر پیش کیے جنہوں نے دنیا کو حیران کر دیا اور یہ دفاع عالمی برادری میں ایران کی سربلندی کا باعث بنا ہے۔
مزید پڑھیں : بم اور میزائل ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے، اندرونی تفرقہ دشمن کا ہدف ہے، صدر پزشکیان
صدر نے نامزد وزیر دفاع کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع میں 42 سالہ تجربہ رکھنے والے اخلاقی کتابچی کی کوششوں اور شہید تہرانی مقدم اور شہید فخری زادہ جیسے شہداء کی جدوجہد نے ملک کی دفاعی طاقت کو اس مقام تک پہنچایا ہے کہ وسیع وسائل رکھنے والی بیرونی طاقتیں بھی آسانی سے ایران پر جارحیت کی جرات نہیں کرتیں۔ انہوں نے بتایا کہ نامزد وزیر امریکا کی پابندیوں کی زد میں ہیں اور ان کے بقول امریکا کی قتل کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔
پزشکیان نے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن الرضا کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی نئے وزیر کے ساتھ اسی جذبے سے کام جاری رکھیں گے اور حکومت ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی رہے گی۔ لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم جارح ممالک کے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات اور غنڈہ گردی کے سامنے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘، اور اگر قومی اتحاد اور عوام کی حمایت برقرار رہی تو کوئی طاقت ایران کی یکجہتی اور اندرونی صلاحیتوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
واضح رہے کہ ‘مہر’ کے مطابق اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نامزد وزیر کی اہلیت پر اظہار خیال کر رہے ہیں، اور رکن پارلیمنٹ ایزدخواہ نے کہا کہ وزارت دفاع کے ڈھانچے پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔ صدر پزشکیان اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ بم اور میزائل ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے اور اندرونی تفرقہ دشمن کا اصل ہدف ہے۔