اسلام 24/7 : یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ نے ہفتے کی شام انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کا وہ خط شائع کیا ہے جو انہوں نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو ان کی شہادت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھا تھا۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ ’’یمن ایمان طوفان الاقصیٰ کے تاریخی اور بابرکت آپریشن کے آغاز سے اپنے فلسطینی مجاہد بھائیوں کے ساتھ مقدس معرکے میں شریک ہے‘‘۔
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق سید عبدالملک الحوثی نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کو منصوبہ بندی، ترتیب اور عمل درآمد کے لحاظ سے ’’انتہائی کامیاب‘‘ قرار دیا اور کہا کہ حماس اور اس کا عسکری ونگ القسام بریگیڈ امت اسلامیہ کے جہاد کا پرچم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مقدسات، فلسطین کی آزادی اور فلسطینی عوام کو بچانے کا مسئلہ تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے، اور فلسطین سے دلی ہمدردی کے باوجود اکثر حکومتوں کی بڑی کوتاہی پر افسوس کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں : امت پر لازم ہے کہ وہ صہیونی عناصر اور ان کے حامیوں کے شر اور سرکشی کے خلاف ڈٹ جائے: عبد المالک حوثی
خط میں بتایا گیا کہ یمن کی میزائل فورس نے ضروریات کے مطابق میزائلوں کو ترقی دینے کے لیے کوششیں کی ہیں اور اس پانچویں مرحلے کے تقاضے پورے کرنے کی تیاری جاری ہے جس میں اسرائیلی وجود کی گہرائی اور مقبوضہ یافا سمیت دیگر اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انصاراللہ کے سربراہ نے بحیرہ احمر، خلیج عدن، باب المندب اور بحیرہ عرب میں بحری کارروائیوں کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے انہیں بحر ہند اور بحیرہ روم تک پھیلانے کے عزم کا ذکر کیا۔
سید عبدالملک الحوثی نے لکھا کہ امریکا نے یمن کی بحری کارروائیاں رکوانے کے لیے 700 سے زائد فضائی حملے کیے مگر ناکام رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ یمن کا مؤقف ’’دینی، انسانی اور برادرانہ‘‘ ہے، یہ دشمنوں کے کسی سیاسی، فوجی یا معاشی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، اور اختتام پر اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ کے وعدے کے مطابق عارضی اسرائیلی وجود کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔
‘المنار’ نے اسی موقع پر یحییٰ سنوار کا سید عبدالملک الحوثی کے نام 15 ستمبر 2024 کا خط بھی شائع کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مزاحمت ’’خیریت سے‘‘ ہے اور اس نے قابض حکومت کی سیاسی قوت ارادی توڑنے کے لیے طویل جنگ کی تیاری کر رکھی ہے۔ انہوں نے یمنی میزائلوں کے اسرائیلی وجود کی گہرائی تک پہنچنے پر مبارکباد دی تھی۔ واضح رہے کہ یحییٰ سنوار 16 اکتوبر 2024 کو رفح میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوئے تھے۔