مصر یمن کے خلاف سعودی فوجی تحرکات میں شامل نہ ہو، یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ الراعی کا مصری اسپیکر کو فوری خط

یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ علی الراعی

اسلام 24/7 : یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ علی الراعی نے مصری ایوان نمائندگان کے اسپیکر ہشام بدوی کو ایک فوری خط بھیجا ہے، جس میں ان خبروں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر مصری پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جا رہا ہے تاکہ انہیں سعودی حکومت کے دفاع کے لیے اقدامات کا اختیار دیا جائے۔

لبنانی ٹی وی ‘المنار’ نے خبر رساں ادارے ‘یونیوز’ کے حوالے سے بتایا کہ الراعی نے خط میں ہر اس رجحان پر تشویش ظاہر کی جو مصر کو یمن میں سعودی پالیسیوں کی خدمت کرنے والی فوجی سرگرمیوں میں الجھا سکتا ہو، اور قاہرہ پر زور دیا کہ وہ نئی فوجی کشیدگی میں نہ پھنسے بلکہ سیاسی حل کی حمایت پر توجہ دے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ نے بھی یمنی اسپیکر کی اس تنبیہ کی خبر دی ہے۔

مزید پڑھیں : سلامتی کونسل کا بیان مایوس کن اور سعودی عرب کے حق میں جانبدار ہے، یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ الراعی

یمنی اسپیکر نے کہا کہ سعودی عرب 12 برس سے زائد عرصے سے یمن پر جارحیت اور محاصرہ مسلط کیے ہوئے ہے، اس نے امن روڈ میپ پر عمل درآمد سے راہ فرار اختیار کی اور امن کے لیے ہونے والی سیاسی کوششوں اور مفاہمتوں کو ناکام بنایا، جبکہ محاصرہ اس قدر سخت کیا کہ بعض علاقے قحط کی سطح تک پہنچ گئے۔ انہوں نے سعودی عرب پر الزام لگایا کہ اس نے صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنا کر اور یمن کے کئی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات پر فضائی حملے کر کے کشیدگی میں کمی کا مرحلہ ختم کر دیا، اور ان کے بقول تکفیری مسلح گروہوں کی حمایت اور مالی معاونت بھی کی۔

الراعی نے واضح کیا کہ یمنی عوام کے مطالبات جارحیت کا فوری خاتمہ، محاصرہ ختم کرنا، یمن کی خودمختاری کا احترام اور اس کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں مصر کی شمولیت خود اس کی قومی سلامتی اور داخلی استحکام کے لیے خطرہ بنے گی، اور یہ راستہ یمن کی وحدت اور استحکام کی حمایت میں قاہرہ کے تاریخی کردار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ یمنی اسپیکر نے خط کے آخر میں عرب مسائل کی حمایت اور یمنی بحران کے منصفانہ و جامع سیاسی حل میں مصر کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ اس سے قبل یحییٰ الراعی سلامتی کونسل کے بیان کو مایوس کن اور سعودی عرب کے حق میں جانبدار قرار دے چکے ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں او آئی سی اجلاس کے دوران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مکالمے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top