آذربائیجان میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج پھیل گیا، طالبات کو کلاسوں سے روکنے پر غم و غصہ

حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج میں پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین

اسلام 24/7 : آذربائیجان میں اسکول یونیفارم سے متعلق حکومتی حکم نامے کے بعد باحجاب طالبات کو کلاسوں سے روکنے کے خلاف احتجاج پھیل گیا ہے، جو جلیل آباد سے شروع ہو کر دارالحکومت باکو سمیت دیگر شہروں تک پہنچ گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق احتجاج کی پہلی لہر اس وقت سامنے آئی جب ضلع جلیل آباد کے اسکول نمبر 9 کی انتظامیہ نے حجاب پہننے والی طالبات کو کلاس رومز میں داخلے سے روک دیا۔ رپورٹ کے مطابق آذربائیجانی حکام نے وزارت سائنس و تعلیم کے 21 ستمبر 2026 کے اس حکم نامے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت ’’سیکولر سرکاری تعلیم کے اصول‘‘ سے متصادم لباس ممنوع ہے، اور اسے ملک کے سیکولر آئین کے مطابق قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں : آسٹریا میں کم عمر طالبات پر حجاب کی پابندی کے خلاف اسکول ہڑتال، ویانا میں طلبہ کا احتجاج

‘مہر’ کے مطابق بعض ایسے اساتذہ اور طلبہ نے بھی، جو خود حجاب نہیں پہنتے، کلاسوں سے نکالی گئی طالبات سے یکجہتی کے لیے مارچ کیے اور کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ‘ابنا’ نے بھی اس معاملے پر ایک متاثرہ طالبہ کی والدہ کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے۔

‘مہر’ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ آذربائیجان کا سیکولر آئین تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی دیتا ہے، اس لیے طالبات کو حجاب کی وجہ سے تعلیم سے محروم کرنا اس آزادی سے متصادم ہے۔

واضح رہے کہ ‘مہر’ کے مطابق اسرائیل سے منسلک بعض ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ایران پر احتجاج بھڑکانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ‘مہر’ نے اسے آذربائیجان کے اپنے مسلم ہمسایوں سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top