آسٹریا میں کم عمر طالبات پر حجاب کی پابندی کے خلاف اسکول ہڑتال، ویانا میں طلبہ کا احتجاج

ویانا میں کم عمر طالبات کے حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج

اسلام 24/7 : آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر مسلم طالبات کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر عائد پابندی کے خلاف طلبہ نے دارالحکومت ویانا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اسکولوں کا بائیکاٹ کر کے احتجاج کیا ہے۔ ایرانی نشریاتی ادارے ‘پریس ٹی وی’ کے ویانا میں نمائندے کے مطابق جمعہ 9 اکتوبر کو ویانا میں بڑی اسکول ہڑتال ہوئی، جبکہ آسٹریا کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

‘پریس ٹی وی’ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ قانون کے تحت اگر کم عمر بچیاں اسکول میں حجاب پہنیں تو ان کے والدین پر 800 یورو تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ آسٹریائی نیوز ویب سائٹ ‘آسٹریا رپورٹ’ کے مطابق پابندی کے نفاذ کے بعد سے محکمہ تعلیم میں اس معاملے پر 252 ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور 87 باضابطہ رپورٹس حکام کو بھیجی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ یعنی 210 ملاقاتیں اور 53 رپورٹس ویانا سے متعلق ہیں۔

مزید پڑھیں : آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا، اساتذہ کے لیے نیا ڈریس کوڈ نافذ

ترک خبر رساں ایجنسی ‘اِلکا’ کے مطابق یہ قانون سرکاری اور نجی دونوں طرح کے اسکولوں پر لاگو ہوتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں پہلے طالبہ اور اس کے والدین سے بات چیت کی جاتی ہے، جبکہ مسلسل عدم تعمیل پر انتظامی کارروائی کے تحت 150 سے 800 یورو تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریائی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام بچیوں کو سماجی یا مذہبی دباؤ سے بچانے کے لیے ہے، جبکہ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک اسلامی مذہبی عمل پر پابندی خود مسلم بچیوں کی آزادی اور وقار کو محدود کرتی ہے۔

آسٹریا کی آئینی عدالت نے اس قانون کے خلاف ایک نئی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے، جس کے درخواست گزاروں میں 9 سے 12 سال کی بچیاں اور ان کے والدین شامل ہیں۔ عدالت کا فیصلہ 2027 کی پہلی ششماہی میں متوقع ہے۔ اس سے قبل آئینی عدالت نے 2020 میں 10 سال سے کم عمر بچیوں کے حجاب پر پابندی کا سابقہ قانون کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ 2 اکتوبر کو ہزاروں افراد نے ویانا میں اس پابندی کے خلاف مارچ کیا تھا۔

واضح رہے کہ یورپ میں مسلم خواتین کے لباس پر پابندیوں کا معاملہ دیگر ممالک میں بھی زیر بحث ہے؛ اٹلی میں اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ یورپی پارلیمنٹ نے 8 اکتوبر کو منظور کی گئی ایک قرارداد میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کی حمایت کی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top