اسلام 24/7 : اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان سے جولائی 2026 کے آخر تک غزہ میں 1,076 فلسطینیوں کے قتل کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 268 بچے اور 126 خواتین شامل ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے ‘وفا’ کے مطابق ادارے نے جنگ بندی کا ایک سال مکمل ہونے پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ پورے سال اسرائیلی حملے کبھی نہیں رکے۔ بیان کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 1,400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ تصدیق شدہ ہلاکتوں میں 37 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔
مزید پڑھیں : غزہ میں اسرائیلی حملے جاری: خان یونس اور رفح میں حملوں میں فلسطینی شہید، شہداء کی تعداد 74,382 ہو گئی
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا: ’’اس پیمانے کا تشدد کسی بھی وقت ناقابل قبول ہے، لیکن نام نہاد جنگ بندی کے دوران اسے ریکارڈ کرنا ناقابل تصور ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق ‘زرد لائن’ کے آس پاس 331 فلسطینیوں کے قتل کی تصدیق ہوئی، جن میں 66 بچے شامل ہیں۔ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیلی فوج اس علاقے کو ’’قتل گاہ‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے جہاں مہلک طاقت من مانے طریقے سے استعمال ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے وقت غزہ کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر تعیناتی سے آغاز کیا اور اسے مسلسل بڑھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ ایسے شہریوں کو نشانہ بنانا جو لڑائی میں براہ راست شریک نہ ہوں، جنگی جرم ہے، اور تیسرے ممالک سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔
ادھر ‘وفا’ کے مطابق منگل کو وسطی غزہ کے قصبے الزوایدہ میں تین ہفتے قبل اسرائیلی گولہ باری سے زخمی ہونے والا چار سالہ بچہ اسامہ احمد عابد زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گیا، جبکہ خان یونس کے شمال میں اسرائیلی فائرنگ سے دو شہری زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں شہداء کی تعداد 74,382 سے تجاوز کر چکی ہے اور 175,416 افراد زخمی ہوئے ہیں۔