حزب اللہ کا بے گھر خاندانوں کے لیے رہائشی منصوبے کا اعلان، 14 ہزار ڈالر تک امداد دی جائے گی، شیخ علی دعموش

شیخ علی دعموش ضاحیہ میں رہائشی منصوبے کے اعلان کی پریس کانفرنس میں

اسلام 24/7 : حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شیخ علی دعموش نے جنگ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے رہائشی منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت بیروت اور اس کے جنوبی مضافات میں 14 ہزار ڈالر اور دیگر علاقوں میں 12 ہزار ڈالر تک امداد دی جائے گی۔

لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق شیخ دعموش نے بیروت کے جنوبی مضافات ضاحیہ میں پریس کانفرنس میں کہا: ’’جو لوگ اس بات پر شرط لگائے بیٹھے تھے کہ حزب اللہ عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکے گی، انہیں مایوسی ہوگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ان خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی جو اس کے ساتھ کھڑے رہے۔

مزید پڑھیں : اگر ضہر البیدر کی گاڑی مزاحمت کی ہے تو مزاحمت کو نہ کوئی شرمندگی ہے نہ ندامت، حزب اللہ رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی

‘المنار’ کے مطابق یہ امداد 2024 اور 2026 کی جنگوں سے متاثرہ مستحق خاندانوں کو کرائے اور فرنیچر کے اخراجات کے لیے ایک سال میں چار قسطوں میں دی جائے گی۔ پہلی قسط بیروت اور جنوبی مضافات میں 3,500 ڈالر اور دیگر علاقوں میں 3,000 ڈالر ہوگی۔ یہ منصوبہ ان خاندانوں کے لیے ہے جن کے بنیادی گھر تباہ ہو گئے، ناقابل رہائش ہو گئے، یا جو مقبوضہ اور سرحدی علاقوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے جہاں واپسی ممکن نہیں۔

شیخ دعموش نے کہا کہ یہ اقدام حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے عہد کی تجدید ہے اور امداد سیاسی یا فرقہ وارانہ وابستگی سے بالاتر ہو کر دی جائے گی۔ انہوں نے مالکان مکان اور فرنیچر فروشوں کو خبردار کیا کہ وہ کرائے یا قیمتیں بڑھا کر اس امداد کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’آج ہم ایک بار پھر ثابت کر رہے ہیں کہ ہم ایسی مزاحمت ہیں جو اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹتی‘‘۔

شیخ دعموش نے لبنانی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا، بلکہ گمراہ کن بیانات اور اشتعال انگیزی سے ان کے زخم گہرے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’تعمیر نو اور بے گھر افراد کو پناہ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اس معاملے کو ہر قسم کے سیاسی حساب کتاب سے الگ رکھا جانا چاہیے‘‘۔

واضح رہے کہ لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 4,389 افراد جاں بحق اور 12,424 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان کے بہت سے دیہات کے مکین بے گھر ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top