ایرانی بحریہ نے امریکا کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے والے نئے ہتھیار تیار کر لیے، ایڈمرل بامنی

ایرانی فوج کی بحریہ کے نائب کمانڈر ریئر ایڈمرل بامنی

اسلام 24/7 : ایرانی فوج کی بحریہ کے نائب کمانڈر ریئر ایڈمرل بامنی نے کہا ہے کہ ایران نے ایسے نئے ہتھیار تیار کیے ہیں جو امریکا کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں، اور دشمن کے حربوں کا جواب نئے طریقوں سے دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق ایڈمرل بامنی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک کی مسلح افواج نے حالیہ جنگوں کے تجربات سے سبق سیکھا ہے اور بحریہ نے دشمن کی کمزوریوں کے مطابق نئے ہتھیاروں کی تیاری شروع کی ہے۔

مزید پڑھیں : ایران کا دوٹوک مؤقف: 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی

انہوں نے کہا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران کو انقلاب کے آغاز سے ہی مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہا ہے، جو کبھی ڈھکے چھپے اور کبھی کھلے عام دی گئیں‘‘۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد دشمن قوتیں ایران کی سمندری سرحدوں سے کافی پیچھے ہٹ گئی ہیں اور اب ایران عراق جنگ کے بعد سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہیں۔

ایرانی بحریہ کے نائب کمانڈر نے 13 جون اور 28 فروری کو ایران پر مسلط کی گئی دو جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی بحریہ نے سپاہ پاسداران کی بحریہ کے ساتھ مل کر بعض مواقع پر امریکا کو کاری ضربیں لگائیں، جن کا مخالف فریق نے بھی کبھی کبھار اعتراف کیا ہے۔ بحری محاصرے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ کر رکھا ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور محاصرے کے خاتمے کو اپنی بنیادی شرائط میں شامل کیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top