اسلام 24/7 : حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک ‘وفاداری برائے مزاحمت’ کے رکن ابراہیم الموسوی نے ضہر البیدر میں پکڑی گئی گاڑی کے بارے میں کہا ہے کہ اگر یہ خبریں درست ہیں کہ گاڑی مزاحمت کی ہے تو سب جان لیں کہ مزاحمت کو نہ کوئی شرمندگی ہے اور نہ ندامت۔
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق ابراہیم الموسوی نے کہا: ’’کوئی دھمکیاں دینے، ناقابل قبول باتیں کرنے، الزامات لگانے یا قتل کی وارداتوں سے تعلق کے اشارے دینے کی کوشش نہ کرے‘‘۔
مزید پڑھیں : حزب اللہ لبنان میں صہیونی فوج کی راہ میں مضبوط رکاوٹ
انہوں نے کہا کہ مزاحمت کی تاریخ واضح، بے داغ اور باعزت ہے۔ ان کے بقول مزاحمت کبھی خانہ جنگی میں شامل نہیں ہوئی اور نہ اس نے اپنی طاقت اندرونی تنازعات میں استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت جانتی ہے کہ لبنان کی طاقت اس کی داخلی وحدت اور فتنے میں پڑنے سے بچنے میں ہے۔
ابراہیم الموسوی نے کہا کہ ریاست کے کیے گئے معاہدے اسرائیلی حملوں کو نہیں روک سکے، بلکہ فریم ورک معاہدے کے بعد بلڈوزنگ اور تباہی کی کارروائیاں پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہیں۔
واضح رہے کہ علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کی شام ضہر البیدر میں داخلی سلامتی فورسز کی چوکی پر ایک گاڑی روکی گئی تھی جس سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد وزیر اعظم نواف سلام نے کہا تھا کہ ریاست اس معاملے میں نرمی نہیں برتے گی۔