اسلام 24/7 : رہبر انقلاب اسلامی کے فوجی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری اور انتظام کوئی سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ناقابل تردید قانونی اور جغرافیائی حق ہے، اور آبنائے پر یہ کنٹرول اس وقت تک جاری رہے گا جب تک امریکا ایران کا بحری محاصرہ ختم نہیں کرتا۔
یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق جنرل رحیم صفوی نے پیر کو تہران میں ایک ملاقات کے دوران کہا: ’’جب یہ آبی گزرگاہ ایسے فوجی سازوسامان کی ترسیل کا راستہ بن جائے جو براہ راست ایران کی قومی سلامتی کو نشانہ بناتا ہے، تو آمد و رفت کا انتظام اور اس پر پابندی صرف حق نہیں بلکہ ہماری مسلح افواج کا اسٹریٹجک فریضہ ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں غیر ضروری کشیدگی پیدا نہیں کرنا چاہتا اور آبنائے پر اپنی گرفت کو اپنے شہریوں اور خطے کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
مزید پڑھیں : امریکا کا جواب ناکافی ہے، محاصرہ اور جارحیت جاری رہی تو آبنائے ہرمز میں سلامتی بحال نہیں ہوگی، ایران
ادھر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے پیر کی رات ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک بڑی قومی دولت ہے۔ خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران کے مفادات آبنائے بند کرنے یا ٹرانزٹ فیس وصول کرنے سے کہیں آگے ہیں اور ’’اس کی اصل قدر سلامتی کو یقینی بنانے کی ہماری صلاحیت میں ہے‘‘۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل احمد وحیدی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ کسی ماورائے خطہ طاقت کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں دھمکی دینے، تسلط جمانے یا مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے ابتدائی دنوں سے ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ایسے معاہدے کی صورت میں یہ پابندیاں اٹھانے کو تیار ہے جس میں ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی پابندیوں اور محاصرے کا خاتمہ شامل ہو۔