اسلام 24/7 : ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران کی سات شرائط پر امریکا کا جواب ناکافی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا محاصرہ اور فوجی جارحیت جاری رکھے گا، آبنائے ہرمز میں سلامتی واپس نہیں آئے گی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق محسن رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر لکھا کہ امریکا نے ایران کی بعض شرائط قبول کی ہیں، لیکن ان کا جواب اب بھی ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’ایرانی سفارت کاری بدل چکی ہے اور سابقہ صورتحال کی طرف کوئی واپسی نہیں ہوگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے گمراہ کرنے پر ٹرمپ نے انسانی تاریخ کی احمقانہ ترین جنگوں میں سے ایک شروع کی، اور امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکام ہوا تو اب امریکا اسمگلنگ کا سہارا لے رہا ہے۔
مزید پڑھیں : ایران کا دوٹوک مؤقف: 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی
ادھر اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق تہران امریکی نکات کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب ثالثوں کو دے گا، تاہم اب تک کے نکات ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور قطر بدستور ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران کے مطالبات میں محاصرے کا خاتمہ، تمام محاذوں پر جنگ کی بندش، منجمد اثاثوں کی واپسی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج تمام نکات پر عمل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی نئی پابندیاں بھی ختم ہونی چاہئیں۔
بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ خطاب کو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ روبیو کو دیوانِ حافظ تحفے میں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران یمن اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے فرانس میں ایرانی طلبہ کی حراست کی بھی مذمت کی۔
واضح رہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے سات شرائط پیش کر رکھی ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر نہیں آئے گی۔