اسلام 24/7 : امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی اپیل پر جیکب آباد میں یمنی عوام سے یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی، جس سے خطاب میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یمن کا مسئلہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھایا جائے۔
اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ‘ابنا’ کے مطابق علامہ مقصود علی ڈومکی نے یمن میں برسوں کی جنگ، بمباری اور انسانی المیے کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کی جانب سے مخالفانہ پروپیگنڈے اور فوجی دباؤ کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں : یمن میں امن کی جانب اہم قدم: انصاراللہ کا مستقل جنگ بندی پر دستخط کے لیے آمادگی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی مقاصد اور خطے کی سیاسی صورتحال کو سمجھ کر ایسے فیصلے کرے جو قومی مفادات کا تحفظ کریں اور امت مسلمہ کے اتحاد کو فروغ دیں۔ انہوں نے حرمین شریفین کے تقدس کو سعودی اقدامات کے جواز کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھائیں یا ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کریں۔
ریلی سے خطاب میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جیکب آباد کے صدر اظہار الحسن نے کہا کہ یمن کے مظلوم عوام کی حمایت دینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان نسل یمن کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ امن کے فروغ اور انسانی امداد کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاراللہ مکہ اور مدینہ کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ عالم اسلام کے لیے اصل خطرہ اسرائیل ہے۔
ریلی کے اختتام پر شرکا نے یمنی عوام سے یکجہتی کا اعادہ کیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ خارجہ پالیسی میں قومی مفاد، مسلم اتحاد اور علاقائی امن و استحکام کو ترجیح دی جائے۔