سیستان و بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں سے منسلک ٹیم گرفتار، جیش الظلم کے ایک کارندے کو پھانسی

ہتھکڑی لگے ہاتھ، دہشت گرد ٹیم کی گرفتاری

اسلام 24/7 : ایران کی پولیس ‘فراجا’ کے ترجمان سردار سعید منتظرالمہدی نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں سے منسلک ایک ٹیم کو ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے ارکان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ اسی روز زاہدان میں دہشت گرد گروہ جیش الظلم کے ایک کارندے کو سزائے موت دے دی گئی۔

خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ دنوں صوبے کے مختلف مقامات پر ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں صوبائی پولیس کے ثقافتی و سماجی امور کے نائب سربراہ کرنل ڈاکٹر نصرت افتخاری شہید اور پولیس کے دو دیگر اہلکار زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تکنیکی اور انٹیلی جنس اقدامات شروع کیے گئے۔

مزید پڑھیں : میناب اسکول حملے کا مقدمہ عالمی عدالتوں میں لے جائیں گے؛ نئی جارحیت کا جواب مختلف ہوگا، ایرانی نائب وزیر خارجہ

منتظرالمہدی کے مطابق وزارت انٹیلی جنس اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ کئی مشترکہ کارروائیوں میں اس ٹیم کے ارکان کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ارکان رہائشی مکانات اور دکانوں کو آڑ بنا کر صوبے کے بعض مقامات، خاص طور پر پولیس مراکز، پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ترجمان کے بقول گرفتار افراد نے جیش الظلم سے تعلق کا اعتراف کیا ہے اور ان کے ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

‘تسنیم’ کے مطابق پیر کی صبح زاہدان میں جیش الظلم کے رکن عمر درستاران کو سپریم کورٹ سے سزا کی توثیق کے بعد پھانسی دی گئی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ گروہ کے عملی دستوں کو رہائش، نقل و حمل اور اسلحہ فراہم کرتا تھا اور راسک اور چابہار میں پولیس اور سپاہ کے مراکز پر حملوں میں معاونت میں ملوث تھا۔ راسک پولیس چوکی پر حملے میں 11 اہلکار شہید ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں جیش الظلم کہلانے والا گروہ برسوں سے سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top