اسلام 24/7 : سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت کو طاقت کے بل پر ختم کرنا اور، ان کے مطابق، دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ عوامی حمایت اور اعتماد کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا: ’’قیامِ امن طاقت کے بے دریغ استعمال سے نہیں، عوام کے اعتماد، سیاسی استحکام، انصاف اور مؤثر حکمتِ عملی سے قائم ہوتا ہے۔‘‘
مزید پڑھیں : خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش منظور کر لی
اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے خبردار کیا کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے پہلے ہی پریشان عوام کو مزید دیوار سے لگانا، ان کے ووٹ کی توہین کرنا اور آئینی و جمہوری راستے بند کرنا پورے سیاسی نظام کو عدم استحکام کی لپیٹ میں لا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں اور یہ ملک کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں۔
انہوں نے کہا: ’’تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے بل پر اقتدار تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن عوامی اعتماد نہیں۔‘‘ ان کے مطابق پاکستان کا استحکام جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حکومت یا پولیس کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔