خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش منظور کر لی

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس

اسلام 24/7 : وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت سمری پر دستخط کر دیے، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت عملاً معطل ہو گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کے مطابق ایوان صدر کے میڈیا ونگ نے بتایا کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی سفارشات، وزیراعظم کی باضابطہ ایڈوائس، متعلقہ اداروں کی امن و امان سے متعلق رپورٹس اور صوبائی قیادت کے ساتھ حکومتی وفد کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اور وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق کابینہ نے صوبائی حکومت کی ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی’ کا نوٹس لیتے ہوئے ایمرجنسی کی سفارش کی۔

مزید پڑھیں : کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

روزنامہ ‘ڈان’ کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو فوری طور پر خیبر پختونخوا کا نیا چیف سیکریٹری مقرر کر دیا ہے، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے میں امن کے قیام، عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کیا گیا ہے۔ ‘ڈیلی پاکستان’ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر دو روز تک مذاکرات کیے گئے اور فریقین معاہدے کے قریب تھے، تاہم بات آگے نہ بڑھ سکی اور پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت لانگ مارچ کو اسلام آباد کی جانب بڑھنے کی اجازت نہیں دے گی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ‘ایکس’ پر لکھا: ’’یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن اس جنگ کو عوامی آواز دبانے یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، اور ان کی جماعت ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائے گی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایمرجنسی کے اعلان سے پہلے ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ مطالبات پورے ہونے تک لانگ مارچ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت جاری ہونے والا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے اور منظوری نہ ملنے کی صورت میں دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے، جبکہ ایسا اعلان کسی صورت چھ ماہ سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتا۔ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان انسداد دہشت گردی پالیسی سمیت مختلف امور پر اختلافات چلے آ رہے تھے اور 3 اکتوبر کو دونوں کے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ ایمرجنسی کے بعد پشاور میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ریڈ زون سمیت کئی اہم سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top