آبنائے ہرمز بحران کا 226واں دن: جہاز رانی کس حال میں ہے اور ایران کا سات روزہ منصوبہ کیا ہے؟

آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا سیٹلائٹ منظر

اسلام 24/7 : آبنائے ہرمز کا بحران آج اپنے 226ویں دن میں داخل ہو گیا ہے اور دنیا کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ سے تجارتی جہاز رانی بدستور شدید متاثر ہے۔ جہاز رانی کے آزاد ٹریکر ‘ہرمز ناؤ’ کے 11 اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں صرف 24 ایسے ٹینکر آبنائے سے گزرے جن کا خودکار شناختی نظام فعال تھا، یعنی روزانہ اوسطاً 3.4 ٹینکر، جبکہ بحران سے پہلے یہ تعداد روزانہ 47.6 تھی۔

اسی ٹریکر کے مطابق جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 2 کروڑ 9 لاکھ بیرل تیل اس راستے سے گزرتا تھا، جو دنیا کی کھپت کا لگ بھگ پانچواں حصہ ہے، اور اس خام تیل کا 89 فیصد ایشیا جاتا تھا۔ ٹریکر کے مطابق کئی جہاز شناختی نظام بند کر کے گزرتے ہیں، اس لیے اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں : آبنائے ہرمز میں ایک اور ٹینکر نشانہ، خلیج عمان میں امریکی حملے سے تجارتی جہاز ناکارہ

تازہ کشیدگی ہفتے کو اس وقت سامنے آئی جب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایک امریکی لڑاکا طیارے نے خلیج عمان میں پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ 14 جولائی کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے 4 تجارتی جہاز ناکارہ اور 135 جہاز واپس موڑے جا چکے ہیں۔

ایرانی اخبار ‘تہران ٹائمز’ کے مطابق تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے ایک ‘سات روزہ منصوبہ’ واشنگٹن کو دیا ہے۔ اس کے تحت پہلے پانچ دنوں میں جنگ بندی، امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل پابندیوں میں چھوٹ اور منجمد اثاثوں کی بحالی، چھٹے دن آبنائے کھولنا اور ساتویں دن جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے پر مذاکرات شامل ہیں۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے ہفتے کو ‘مہر’ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی سات شرائط ’’ناقابل تبدیل‘‘ ہیں اور امریکی جواب میں پہلے آبنائے کھولنے اور شرائط بعد میں بتدریج پوری کرنے کی بات کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 17 جون کو اسلام آباد میں طے پانے والی عبوری مفاہمت چند ہفتوں میں ختم ہو گئی تھی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے مارچ میں رکن ممالک کے 42 کروڑ 60 لاکھ بیرل ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ اماراتی اخبار ‘دی نیشنل’ کے مطابق قطر انرجی نے گیس کی ترسیل میں ‘فورس میجور’ دسمبر کے اوائل تک بڑھا دی ہے، جس سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت کئی خریدار متاثر ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top