اسلام 24/7 : آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ ہفتے کی شام آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایک تجارتی جہاز کو فضائی حملے سے ناکارہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق یہ واقعہ 10 اکتوبر کو گرینچ وقت کے مطابق شام 7 بج کر 20 منٹ پر پیش آیا، جب آبنائے سے باہر جانے والے ایک ٹینکر کے بائیں حصے پر نامعلوم پروجیکٹائل لگا اور آگ بھڑک اٹھی۔ عملہ محفوظ ہے، تاہم نقصان اور ماحولیاتی اثرات کا اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ اور ترکی کے سرکاری ادارے ‘انادولو’ نے بھی یہ رپورٹ نقل کی ہے، تاہم ٹینکر کا نام اور حملے کا ذمہ دار تاحال سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں : ایران کا دوٹوک مؤقف: 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی
اسی روز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ‘غیر مجاز راستے’ پر سفر کرنے والا خام تیل سے لدا ایک سپر ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بیان کے مطابق جہاز نے اپنا نیویگیشن اور پوزیشننگ نظام بند کر رکھا تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ وہی جہاز ہے جس کی اطلاع یو کے ایم ٹی او نے دی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ہفتے کو ایک امریکی لڑاکا طیارے نے خلیج عمان میں پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز ‘اوشن مولیکا’ (جسے ‘اریکا سن’ بھی کہا جاتا ہے) کے عقبی حصے کو نشانہ بنا کر اس کا پروپلشن نظام ناکارہ کر دیا۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ایک ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا، اس کے عملے نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے دوران بار بار کی تنبیہات نظر انداز کیں اور حملے میں عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی فوج کے مطابق 14 جولائی کو ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے 4 تجارتی جہاز ناکارہ بنائے جا چکے ہیں اور 135 جہازوں کو واپس موڑا گیا ہے۔ یو کے ایم ٹی او نے خلیج عمان میں ‘ایک ٹینکر اور فوجی دستوں’ سے متعلق واقعے کی اطلاع ملنے کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو بارہا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے سے گزرنے والے جہاز اس کی اعلان کردہ ہدایات اور مقررہ راستوں کی پابندی کریں، جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کیے ہوئے ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔