امریکی عوام کا اصل خطرہ جنگ پسند حکمران طبقہ ہے، ٹرمپ کے لاس اینجلس والے بیان پر ایرانی ترجمان کا ردعمل

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

اسلام 24/7 : ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کی ممکنہ تباہی کو ’’بہت معمولی قیمت‘‘ قرار دیا تھا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں ‘ارنا’ اور ‘تسنیم’ کے مطابق بقائی نے ہفتے کی رات ‘ایکس’ پر لکھا کہ امریکی حکمران اپنے عوام کو ڈرانے کے لیے ’’آسمان میں ایک خیالی دشمن‘‘ کھڑا کرتے ہیں تاکہ زمین پر موجود اصل خطرہ نظروں سے اوجھل رہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق ’’اصل خطرہ نہ سرحدوں کے پار ہے اور نہ ہی لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کے آسمان میں، بلکہ وہ حکمران طبقہ ہے جس نے دنیا پر عالمی نتائج والی ایک غیر قانونی جنگ مسلط کر رکھی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’خوف کی سیاست‘‘ کی واضح مثال ہے، جس میں لوگوں کو موہوم خطرے سے ڈرا کر اپنے ہی شہروں کی تباہی کو قابل قبول قیمت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں : ٹرمپ کا جنگی جنون اور دوستوفسکی کا ‘جواری’ : کیا ایران کے خلاف جنگ دوبارہ بھڑکے گی؟

قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق ٹرمپ نے 5 اکتوبر کو ریاست نیبراسکا میں وسط مدتی انتخابات کی ایک ریلی میں جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وہ ایک شہر کو تباہ کر سکتے ہیں، انہیں لاس اینجلس تباہ کرنے دیں، انہیں سان ڈیاگو تباہ کرنے دیں، یہ بہت معمولی قیمت ہے‘‘۔ وائٹ ہاؤس نے وضاحت دی کہ صدر کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار سے نہ روکا جاتا تو امریکی شہر خطرے میں ہوتے، تاہم کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم سمیت ڈیموکریٹ اور بعض ری پبلکن رہنماؤں نے بیان کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیا۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘انادولو’ کی اتوار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اپنی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے، جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف کارروائیوں سے منسلک امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھا کر 21 کر دی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر حملے شروع کیے تھے اور یہ جنگ اب آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے قطر کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی شرائط واشنگٹن کو بھجوا رکھی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top