اسلام 24/7 : تہران ٹائمز کے ایڈیٹر انچیف محمد صرفی نے اپنے حالیہ اداریے میں اس اہم اور سلگتے ہوئے سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ کیا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے؟ اس پیچیدہ سیاسی صورتحال اور امریکی صدر کی غیر متوقع شخصیت کا تجزیہ کرنے کے لیے انہوں نے مشہور روسی مصنف فیودر دوستوفسکی کے شہرہ آفاق ناول “جواری” (The Gambler) کا سہارا لیا ہے۔
دنیا بھر کے سیاست دان، صحافی اور مارکیٹ کے تجزیہ کار امریکی صدر کے فیصلوں کو سمجھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ امریکی صدر کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں، اور امریکی نظام میں ان پر لگائی گئی پابندیاں عملی حقائق سے زیادہ محض کاغذی نظریات معلوم ہوتی ہیں۔ محمد صرفی کے مطابق، 9 اسفند کو شروع ہونے والی جنگی صورتحال درحقیقت کبھی ختم ہی نہیں ہوئی، بلکہ اس میں صرف اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ صدر کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو وہ روزانہ ایک نیا اور متضاد دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال اوکلاہوما کی انتخابی تقریر ہے جہاں انہوں نے یہ حیران کن اور بے بنیاد دعویٰ کیا کہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے اندر منشیات تیار کر رہا ہے۔
جب سیاسی معموں کو حل کرنے کے روایتی طریقے ناکام ہو جائیں تو دوستوفسکی جیسے عظیم مصنفین کی تخلیقات رہنمائی کرتی ہیں۔ محض 26 دن میں تحریر کیا گیا ناول “جواری” دراصل خود مصنف کے جوئے کے قرضوں اور مالی دباؤ کا نتیجہ تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جواریوں کا ایک ہی اصول ہوتا ہے: کبھی کھیل کی میز مت چھوڑو۔ جیتنے والا مزید کی لالچ میں اور ہارنے والا اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے کھیلتا رہتا ہے۔ ناول کا کردار الیکسی ایوانووچ بھی اسی لت کا شکار ہے، جو شدید بے چینی کے باوجود مسلسل داؤ پر داؤ لگاتا چلا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں : ایرانی فوج کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، ترجمان محمد اکرمی نیا
محمد صرفی اس ناول کا موازنہ امریکی صدر سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وینزویلا پر حملہ ٹرمپ کے لیے ایک فریب زدہ مگر میٹھی جیت تھی جس نے ان کے اندر کے جواری کو مزید بھڑکا دیا۔ اس کے بعد، اس وقت کے موساد چیف کی شہہ پر انہوں نے ایران جیسی ‘بڑی مچھلی’ کو نشانہ بنانے کا سوچا، جو 1357 ہجری شمسی سے امریکی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی ایسا ہی ایک جوا ہار چکے تھے، لیکن انہیں لگا کہ اس بار صورتحال مختلف ہوگی۔
جو جنگ محض چند ہفتوں میں ختم ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، وہ اب امریکا کے لیے سات ماہ طویل دلدل بن چکی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ امریکا میں بعض پٹرول پمپس پر ڈیزل کی قیمت 9.99 ڈالر تک پہنچ گئی ہے کیونکہ مشینوں میں اس سے بڑا ہندسہ دکھانے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ اسفند کے مہینے میں کھیلا گیا یہ جوا اب کئی دہائیوں کی سب سے غیر مقبول جنگ بن چکا ہے، جس نے امریکی صدر کے ووٹ بینک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایک ہوشمند انسان ایسی صورتحال میں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتا، لیکن ٹرمپ ایک ایسے تھکے ہارے جواری کی طرح ہیں جو جیتنے کی بے بنیاد امید پر سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہے۔ وہ فتح کے جنون میں بچوں کے قتل یا غیر مسلح جہازوں کو ڈبونے جیسی حرکات سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ اطلاعات کے مطابق، بند کمروں کے اجلاسوں میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کی ناکامی کی وجہ حملوں میں شدت کی کمی تھی۔ دوستوفسکی کا الیکسی بھی آخر میں اپنا بچا ہوا آخری سکہ داؤ پر لگا کر جیت حاصل کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اگر وہ خطرہ نہ مول لیتا تو سب کچھ ختم ہو جاتا۔ امریکی صدر کی موجودہ ذہنیت بھی اسی خطرناک جواری جیسی ہے۔