اسلام 24/7 : غزہ میں آٹے کی شدید قلت کے باعث بیکریاں بند ہونے لگی ہیں اور دوبارہ قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ‘فلسطین انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق غزہ میں بیکری مالکان ایسوسی ایشن کے سربراہ عبدالناصر العجرمی نے بتایا کہ کام کرنے والی 17 میں سے 10 بیکریاں تجارتی آٹا نہ ملنے سے بند ہو چکی ہیں۔
العجرمی کے مطابق 10 دن سے آٹے کی کوئی کھیپ غزہ میں داخل نہیں ہونے دی گئی اور شہری روٹی کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کی 21 معاون بیکریاں صرف تقریباً 25 فیصد ضرورت پوری کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں : ٹیکس وصولی کے اسرائیلی دعوے جھوٹے ہیں، غزہ میں روزانہ 600 ٹرک داخل کیے جائیں، سرکاری میڈیا آفس
غزہ کی وزارت سماجی ترقی نے خبردار کیا ہے کہ آٹے پر پابندیاں برقرار رہیں تو لاکھوں فلسطینی فوری انسانی تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں، اور عالمی برادری سے ذمہ داری پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ خوراک نے فنڈز کی کمی کے باعث تقریباً 5 لاکھ فلسطینیوں کی امداد معطل کر دی ہے، جبکہ تقریباً 14 لاکھ افراد سنگین غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ جنگ بندی معاہدے میں روزانہ 600 ٹرکوں کی شرط تھی، مگر اوسطاً تقریباً 200 ٹرک داخل ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘مہر’ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 74,498 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔