اسلام 24/7 : اردن کے جنوبی صوبہ کرک میں جمعہ کو ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی ٹی وی ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق اردنی محکمہ پبلک سکیورٹی نے 7 ہلاکتوں اور 34 زخمیوں کی تصدیق کی، جبکہ ‘فلسطین انفارمیشن سینٹر’ نے زخمیوں کی تعداد 27 بتائی۔
‘پریس ٹی وی’ کے مطابق ایک عینی شاہد نے اردنی چینل ‘المملکہ’ کو بتایا کہ حملہ آور گاڑی میں آئے، پانچ منٹ تک فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ سکیورٹی ادارے ملزمان کی شناخت کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں : کولمبیا کے مقبوضہ القدس میں سفارتخانہ کھولنے کی مذمت: حماس، او آئی سی، عرب لیگ اور قطر کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق حزب اللہ کے مسیحی امور کے ذمہ دار حاج محمد الخنسا نے کرک کے سینٹ جارج چرچ میں ہونے والے اس ’’دہشت گردانہ جرم‘‘ کی مذمت کی، اسے فرقہ وارانہ فتنہ بھڑکانے کی کوشش قرار دیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔
‘فلسطین انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق حماس نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اردنی قیادت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے ذمہ داروں کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق ایک نامعلوم سرکاری ذریعے نے ‘رؤیا نیوز’ کو بتایا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق حملہ تکفیری نظریے کے تحت کیا گیا، تاہم حملہ آوروں کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔