ٹیکس وصولی کے اسرائیلی دعوے جھوٹے ہیں، غزہ میں روزانہ 600 ٹرک داخل کیے جائیں، سرکاری میڈیا آفس

غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان امدادی ٹرکوں کی قطار

اسلام 24/7 : غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے تجارتی ٹرکوں پر ٹیکس اور فیس وصول کرنے کے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل یہ دعوے محاصرہ سخت کرنے اور انسانی امداد اور سامان کی فراہمی کے وعدوں سے بچنے کے لیے پھیلا رہا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے ‘پیلسٹینین انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق میڈیا آفس نے بیان میں کہا کہ جنگ کے غیر معمولی حالات کے پیش نظر غزہ کے حکام نے گزشتہ تین برسوں میں تجارتی سرگرمیوں پر کوئی ٹیکس یا فیس وصول نہیں کی۔ آفس نے ثالثوں، اقوام متحدہ اور غزہ کے انتظام کی قومی کمیٹی سے فوری مداخلت کر کے شرم الشیخ عمل کے تحت طے شدہ مفاہمتوں کے مطابق روزانہ 600 ٹرکوں کے داخلے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں : غزہ میں جنگ بندی کے بعد شہداء کی تعداد 1,505 ہو گئی، غزہ شہر میں ڈرون حملے میں ایک فلسطینی شہید، درجنوں زخمی

بیان کے مطابق اسرائیل 10 ہزار شیکل کے ایک رضاکارانہ سماجی عطیے کو تاجروں پر عائد لازمی ادائیگی کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ یہ رقم ایک قومی سماجی یکجہتی فنڈ میں جاتی ہے جو یتیموں، بیواؤں، بچوں اور ضرورت مند طلبہ کی مدد کے ساتھ پناہ گاہوں اور ہنگامی امداد کے منصوبوں پر خرچ ہوتی ہے۔ میڈیا آفس نے کہا کہ نقد لین دین سے متعلق اقدامات نقدی کی شدید قلت اور خستہ حال کرنسی نوٹوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر کیے گئے۔

میڈیا آفس نے بتایا کہ اس نے مصر، قطر اور ترکی کے ساتھ اقوام متحدہ کے عہدیدار رامز علی اکبروف، پیس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولائی ملادینوف اور غزہ کے انتظام کی قومی کمیٹی کے کمشنر جنرل علی شعث کو سرکاری مراسلے بھیجے ہیں۔ آفس نے مطالبہ کیا کہ گزرگاہیں کھولی جائیں، کیونکہ عوام کی خوراک، دوا اور پناہ کی ضروریات مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتیں۔

ادھر ‘وفا’ کے مطابق جمعرات کی شام ایک اسرائیلی ڈرون نے غزہ شہر کے علاقے الرمال میں بے گھر افراد کے ایک خیمے کو نشانہ بنایا، جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 1,505 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top