یمن سے جنگ بھائی کشی ہے، ہتھیاروں کا رخ صہیونی حکومت کی طرف ہو، رہبر انقلاب کے مشیر مخبر کی سعودی عرب کو تنبیہ

رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر محمد مخبر

اسلام 24/7 : رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور معاون محمد مخبر نے یمن پر سعودی جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ امریکا اور صہیونیوں کے حکم پر اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل بند کرے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق محمد مخبر نے ہفتے کو سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا: ’’یمن کے ساتھ جنگ بھائی کشی اور سعودی عرب کی جانوں اور اموال کو ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں‘‘۔ انہوں نے لکھا: ’’ہتھیاروں کا رخ ٹھیک ٹھیک عالم اسلام کے دشمن نمبر ایک یعنی صہیونی حکومت کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ یمن کے مؤمن اور مزاحمت کار عوام کی طرف۔ ریاض ٹرمپ کی چال میں کھیل رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو قربان کر دیتا ہے، یہ ایسا سبق ہے جسے سعودیوں کو نہیں بھولنا چاہیے‘‘۔

مزید پڑھیں : ایران کو جارح کہنا مظلوم اور جارح کو الٹ دینے کی بھونڈی کوشش ہے، برطانیہ اپنا تباہ کن کردار نہیں چھپا سکتا، بقائی

ادھر ‘مہر’ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعہ کی رات صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران یمن کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور سعودی عرب اور یمن کے درمیان مسائل کے پرامن حل میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ بیرونی مداخلت، فوجی طریقہ کار اور محاصرہ یمن کے بحران کا حل نہیں۔

بقائی نے سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ایران نے یمنیوں کو سعودی عرب پر حملوں کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران یمنی کارروائیوں میں اپنے کردار سے متعلق ہر ایسے الزام کو مسترد کرتا ہے‘‘۔ ان کے مطابق یمنی مسلح افواج اپنے مفادات اور جائزوں کی بنیاد پر کام کرتی ہیں، اور یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اس کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، اندرونی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت کا خاتمہ، اور سب سے بڑھ کر اس پر عائد فضائی اور بحری محاصرے کا خاتمہ ضروری ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ یمنی عوام ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بحری اور فضائی محاصرہ برداشت کر رہے ہیں، جس کے پیچھے بیرونی طاقتیں، خاص طور پر برطانیہ اور امریکا ہیں۔ واضح رہے کہ بقائی کے مطابق ایران کشیدگی میں اضافے کو کسی کے مفاد میں نہیں سمجھتا اور توقع رکھتا ہے کہ خطے اور عالم اسلام کے ممالک اس صورتحال کے خاتمے کے لیے مل کر کوشش کریں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top