غزہ میں جنگ بندی کے بعد شہداء 1,511 ہو گئے، دیر البلح، التفاح اور رفح میں ڈرون حملے؛ 340 سے زائد بچے شہید ہوئے، یونیسف

غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کی بستی

اسلام 24/7 : غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1,511 اور زخمیوں کی تعداد 5,375 ہو گئی ہے۔ ہفتے کو غزہ کی پٹی میں کئی مقامات پر اسرائیلی ڈرون حملے کیے گئے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے ‘وفا’ کے مطابق ہفتے کی صبح غزہ شہر کے شمال مشرق میں التفاح محلے میں شہریوں کے ایک اجتماع پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک نوجوان شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ وسطی غزہ کے شہر دیر البلح کے جنوب میں البرکہ اسٹریٹ پر شہریوں کے ایک گروپ پر ڈرون حملے میں ایک فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ ہفتے کو رفح کے علاقے المواصی میں ایک اور ڈرون حملے میں کم از کم ایک فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔

مزید پڑھیں : ٹیکس وصولی کے اسرائیلی دعوے جھوٹے ہیں، غزہ میں روزانہ 600 ٹرک داخل کیے جائیں، سرکاری میڈیا آفس

‘وفا’ کے مطابق جمعہ کی شام غزہ شہر کے مغرب میں النصر محلے میں فلسطینیوں کے ایک گروپ پر فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے، جبکہ خان یونس کے مغرب میں المواصی میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک خاتون شہید ہو گئیں۔ ‘وفا’ کے مطابق اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے خان یونس کے جنوب میں شدید فائرنگ کی اور غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی گئی۔

یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں چھ شہداء اور 43 زخمی اسپتالوں میں لائے گئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہداء کی تعداد 74,469 اور زخمیوں کی تعداد 175,492 ہو گئی ہے۔

‘وفا’ کے مطابق اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے ‘یونیسف’ کے ترجمان ریکارڈو پائرز نے جمعہ کو جنیوا میں کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی افواج غزہ میں 340 سے زیادہ بچوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 8 لاکھ بچے بے گھر ہیں اور زیادہ تر خیموں یا بمباری سے تباہ خطرناک عمارتوں میں رہ رہے ہیں، جبکہ اندازاً 60 ہزار بچوں کے ماں باپ میں سے ایک یا دونوں جنگ یا جنگ بندی کے دوران مارے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ پائرز کے مطابق غزہ کے بچے اپنی چوتھی سردیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top