اسلام 24/7 : ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ نئے آپریشنل منصوبوں پر کام جاری ہے جو معاندانہ امریکی جہازوں کو مزید دور بھاگنے پر مجبور کر دیں گے، اور اگر امریکا خطے سے نہ نکلا تو ایران اسے نکال دے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق جنرل اکرمی نیا نے جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا: ’’ٹرمپ کے بار بار کے دعووں کے باوجود ایران کی موجودہ فضائی دفاعی صلاحیتیں جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران کی سطح سے کہیں آگے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فضائی دفاع نے حالیہ ہفتوں میں ملکی فضائی حدود میں متعدد امریکی ڈرون کامیابی سے مار گرائے ہیں، اور ’’امریکی فوجی جہاز خلیج فارس کے ساحلوں سے 500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں‘‘۔
مزید پڑھیں : ایرانی قوم کے حقوق تسلیم ہونے تک آبنائے ہرمز پر پابندیاں برقرار رہیں گی، کھلے ہونے کے دعوے جھوٹے ہیں، جنرل حاتمی
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا: ’’اگر امریکا خطہ چھوڑ دے تو آبنائے ہرمز کھل جائے گی، خطے کے ممالک کی شرکت سے اجتماعی سلامتی قائم ہوگی اور عالمی معیشت بہتر ہوگی۔ اگر وہ نہیں جاتا تو ہم اسے نکال دیں گے‘‘۔
جنرل اکرمی نیا کے مطابق جدید مشترکہ اور اختراعی فوجی کارروائیوں کی کامیاب مشقیں کی گئی ہیں، اور جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ملک بھر میں قومی فضائی دفاع کا دائرہ نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’آبنائے ہرمز کے مشرق میں آج جو بدامنی دیکھی جا رہی ہے وہ تباہ کن امریکی موجودگی کا براہ راست نتیجہ ہے‘‘، اور خطے کے ممالک اور عالمی برادری کو تسلیم کرنا چاہیے کہ امریکا ہی خطے میں عدم استحکام کی بنیادی جڑ ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کی رات ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا تھا کہ جب تک ایرانی قوم کے حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندیاں جاری رہیں گی، جبکہ ہفتے کو سپاہ کی بحریہ نے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے والے ایک سپر ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرا کر پھٹنے کا اعلان کیا۔