سعودی حکومت یمن میں ناکامیاں چھپانے کے لیے حرمین شریفین کو سیاسی ہتھیار بنا رہی ہے، یمنی سپریم کونسل کے مشیر

یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے مشیر محمد طاہر انعم

اسلام 24/7 : یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے مشیر محمد طاہر انعم نے کہا ہے کہ سعودی حکومت مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے اور یمن کے مقابلے میں اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے حرمین شریفین کے مقام کو سیاسی اور میڈیا مہم میں استعمال کر رہی ہے۔

یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کو ہفتے کو دیے گئے انٹرویو میں محمد طاہر انعم نے کہا کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ریاض امن کی طرف بڑھنے اور یمنی عوام کا محاصرہ ختم کرنے کے بجائے اپنی جارحیت جاری رکھنے کے لیے جواز تلاش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ سعودی مہم حرمین شریفین کے مقام کو ایسے معاملات میں سیاسی طور پر استعمال کرنے کا ایک اور ثبوت ہے جو نہ اسلام کے مفاد میں ہیں اور نہ مسلمانوں کے۔

مزید پڑھیں : سلامتی کونسل کا بیان مایوس کن اور سعودی عرب کے حق میں جانبدار ہے، یمنی پارلیمنٹ کے اسپیکر یحییٰ الراعی

یمنی مشیر نے کہا کہ یمن کے مقابلے میں سعودی حکومت کی ناکامیوں نے اسے امریکا اور صہیونی حکومت سے مدد لینے، فوجی اور انٹیلی جنس تعاون حاصل کرنے اور بحری و فوجی اتحاد بنانے پر مجبور کیا، لیکن ان اقدامات سے سعودی حکومت اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ یمن کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں میڈیا مہم یا مذہبی جذبات بھڑکانے سے کامیاب نہیں ہوں گی۔

حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کے سعودی دعووں کے بارے میں محمد طاہر انعم نے کہا کہ سعودی حکومت ان دعووں کے ذریعے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر رائے عامہ کو جنگ کی حقیقت اور یمن پر جارحیت کے نتائج سے ہٹانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق اسلامی مقدسات کو سیاسی اور میڈیا تنازعات میں گھسیٹنا اسلامی عوام میں ان کے مقام کا غیر ذمہ دارانہ استحصال ہے۔ انہوں نے بعض ممالک کے ذرائع ابلاغ پر بھی تنقید کی کہ وہ سیاسی یا مالی مقاصد کے لیے سعودی بیانیے کی حمایت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمنی مسلح افواج بارہا کہہ چکی ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ان کی کارروائیوں سے مستثنیٰ ہیں، اور جمعرات کو انہوں نے مدینہ منورہ کی جانب حملے کے سعودی دعوے کو ’’بہتانِ عظیم‘‘ قرار دیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top