مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزامات جھوٹے ہیں، اسلامی ممالک جارحیت ختم کرائیں، یمنی وزارت خارجہ

صنعا میں یمنی وزارت خارجہ کی عمارت

اسلام 24/7 : یمن کی وزارت خارجہ نے بغداد میں 17 اور 18 اکتوبر کو ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے قبل اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یمن پر جارحیت اور محاصرہ ختم کرانے میں مدد کریں، اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزامات کو مسترد کریں۔

یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق وزارت خارجہ نے بیان میں ان سعودی الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ الزامات ان یمنی عوام کی توہین ہیں جو اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔ وزارت نے کہا کہ صنعا کے مطالبات جائز ہیں اور وہ جارحیت اور محاصرے کے خاتمے کا تقاضا کرتے ہیں، اور یمن غیر جانبدار فریقوں کے سامنے سعودی الزامات کی تردید کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھیں : مدینہ منورہ کی جانب حملے کا سعودی دعویٰ بہتانِ عظیم ہے، آج سعودی سرزمین پر کوئی کارروائی نہیں کی، یمنی فوج

وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب 12 برسوں سے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، اور محاصرے، تنخواہوں کی بندش اور صنعا ہوائی اڈے پر پابندیوں کے ذریعے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ وزارت نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی محفوظ ہے، جبکہ سعودی کشیدگی ہی سمندری سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

‘المسیرہ’ کے مطابق نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابو راس نے کئی اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو خطوط بھیجے، جن میں کہا گیا کہ سعودی حکومت 26 مارچ 2015 سے یمن پر 274,302 سے زیادہ فضائی حملے کر چکی ہے۔ ابو راس نے کہا کہ صنعا نے عمان کی سرپرستی میں ہونے والی مشاورت میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں ایک روڈ میپ طے ہوا، لیکن سعودی حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے 13 جولائی کو مسافروں اور مریضوں کو لے جانے والی ایک انسانی پرواز کی آمد روکنے کے لیے صنعا ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر موجودہ کشیدگی کا آغاز کیا، جس کے جواب میں یمنی عوام نے ’محاصرے کے بدلے محاصرہ اور کشیدگی کے بدلے کشیدگی‘ کی مساوات نافذ کی۔

ابو راس نے خطوط میں باب المندب کو عسکری رنگ دینے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا: ’’اگرچہ صنعا نے بارہا اور مسلسل عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی حکومت پر امن کی طرف آنے کے لیے دباؤ ڈالے، لیکن ان مطالبات کو سنا ان سنا کر دیا گیا‘‘۔ واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کو بغداد پہنچے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top