اسلام 24/7 : سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کو ہونے والے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو گئے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اس کا الزام یمن کی انصاراللہ تحریک پر عائد کرتے ہوئے ‘فیصلہ کن جواب’ دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ یمنی ذرائع کے مطابق سعودی طیاروں نے اتوار کو صوبہ صعدہ پر نئے حملے کیے۔
سعودی شہری ہوابازی اتھارٹی کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 سعودی، 2 بنگلہ دیشی اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے، اور کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ اس ہفتے اسی ہوائی اڈے پر تیسرا حملہ تھا، جس کی بندش اتوار کی رات تک بڑھا دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں : سعودی عرب یمن جنگ کی دلدل میں پھنس چکا ہے، انصاراللہ رہنما حزام الاسد
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حملے کو ‘مکمل جنگی جرم’ قرار دیا۔ دوسری جانب انصاراللہ کے میڈیا آفس کے سربراہ نے کہا کہ تحریک نے ریاض ایئرپورٹ کو ‘بند کر دیا ہے’۔ انصاراللہ پہلے ہی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا سعودی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا علاقہ قرار دے چکی ہے۔
یمن کی خبر رساں ایجنسی ‘سبا’ کے مطابق اتوار کو سعودی طیاروں نے صعدہ کے ضلع مجز کو 6 بار نشانہ بنایا، تاہم جانی نقصان کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اس سے قبل انصاراللہ سے وابستہ ‘المسیرہ’ ٹی وی نے صنعاء ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ کیا تھا، جس پر سعودی حکام نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ریاض حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہری تنصیبات پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ عمان نے تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔
واضح رہے کہ یمن میں جنگ 2014 میں انصاراللہ کے صنعاء پر کنٹرول کے بعد شروع ہوئی اور 2015 میں سعودی اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔ اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون رہا، مگر جولائی سے لڑائی پھر بھڑک اٹھی۔ رواں ہفتے پیر کو یمنی حکومتی افواج نے انصاراللہ کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی، جسے سعودی عرب کی فضائی مدد حاصل ہے۔