اسلام 24/7 : مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کے موسم میں فلسطینی کسانوں پر اسرائیلی آبادکاروں اور قابض فورسز کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق ہفتے اور اتوار کو کئی دیہات میں کسانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، فصل اور زرعی سامان لوٹا گیا اور انہیں ان کی زمینوں سے نکال دیا گیا۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ‘وفا’ کے مطابق اتوار کو نابلس کے جنوب میں گاؤں یتما میں زیتون چننے والی 5 خواتین، جن میں ایک معمر خاتون بھی شامل تھیں، اسرائیلی فوج کی آنسو گیس سے متاثر ہوئیں، جس کے بعد فوج نے علاقے کو ‘ایریا سی’ قرار دے کر انہیں زمین چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ رام اللہ کے مشرق میں عین یبرود میں آبادکاروں نے فوج کی موجودگی میں گاؤں کونسل کی گاڑی پر قبضہ کر کے زیتون کی بوریاں اور زرعی آلات لوٹ لیے۔
مزید پڑھیں : مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپے: صحافیوں اور بچوں سمیت متعدد شہری اغوا
ہفتے کو رام اللہ کے شمال مغرب میں دیر ابو مشعل گاؤں میں فلسطینی ہلال احمر نے کم از کم 9 زخمیوں کو طبی امداد دی، جن میں سے ایک کو اصلی گولی اور دو کو ربڑ کی گولیاں لگیں جبکہ 6 کو مارا پیٹا گیا۔ ‘انادولو’ کے مطابق کوریج کرنے والے اس کے فوٹو جرنلسٹ عصام ریماوی بھی ربڑ کی گولی سے زخمی ہوئے۔ المغیر گاؤں میں ایک گھر پر آنسو گیس پھینکی گئی اور ایمبولینس کو وہاں پہنچنے سے روکا گیا۔
فلسطینی سرکاری ادارے ‘کمیشن برائے مزاحمتِ آبادکاری و دیوار’ کے مطابق صرف ہفتے کو 9 گورنریٹس میں آبادکاروں کے 18 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ‘وفا’ کے مطابق اتوار کو جنین، طولکرم اور بیت لحم میں چھاپوں کے دوران 18 فلسطینیوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
واضح رہے کہ اکتوبر کے آغاز میں فصل کا موسم شروع ہونے کے بعد سے کسانوں پر حملوں اور ان کی زمینوں تک رسائی پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی کمیشن کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ میں مغربی کنارے میں 26 ہزار سے زائد زیتون کے درختوں سمیت 45 ہزار سے زیادہ درخت کاٹے گئے یا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔