اسلام 24/7 : یمن کی وزارت خارجہ و امور تارکین وطن نے کہا ہے کہ سعودی حکومت شہری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے، جس کی تازہ مثال آبنائے باب المندب میں جزیرہ میون کے بحری لائٹ ہاؤس پر حملہ ہے۔ یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق وزارت نے ہفتے کو جاری بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔
وزارت کے مطابق اس شہری نیویگیشن تنصیب پر حملے سے باب المندب میں بحری جہاز رانی کی سلامتی متاثر ہوگی۔ بیان میں بین الاقوامی بحری تنظیم سے حملے کی مذمت کا مطالبہ کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ سعودی حکومت باب المندب کو جنگی علاقہ بنا رہی ہے۔ وزارت نے کہا کہ ان پانیوں میں جہاز رانی محفوظ ہے۔
مزید پڑھیں : صنعا میں یمنی آئل کمپنی کے مرکز پر سعودی حملہ کھلا جنگی جرم ہے، ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، عمر البخیتی
ادھر صوبہ الجوف میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن کارپوریشن کے ڈائریکٹر منصور القاسمی نے ‘المسیرہ’ کو بتایا کہ سعودی حملے میں الحزم شہر میں کارپوریشن کی عمارت، شمسی نظام، ٹینک اور پانی کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا، جس سے تقریباً 50,000 یا اس سے زیادہ شہری پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
یمنی وزارت صحت و ماحولیات نے بھی صوبہ تعز کے ضلع المسراخ میں بلان ہیلتھ سینٹر پر سعودی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ مرکز مکمل طور پر تباہ ہو کر ناکارہ ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ ‘المسیرہ’ کے مطابق یمنی وزارت نوجوانان و کھیل نے بتایا ہے کہ سعودی طیاروں نے تعز میں الاہلی کلب کا اسٹیڈیم بھی تباہ کر دیا ہے۔