اسلام 24/7 : ایرانی پارلیمنٹ نے مہرداد اخلاقی کتابچی کو ملک کا نیا وزیر دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹکس کا وزیر منظور کر لیا ہے۔ اتوار کو ہونے والے کھلے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے ان کے پروگرام اور اہلیت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اعتماد کا ووٹ دیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کے مطابق ووٹنگ میں 237 ارکان نے اخلاقی کتابچی کے حق میں اور 15 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جبکہ کوئی رکن غیر جانبدار نہیں رہا۔ ‘مہر’ کے مطابق وہ میجر جنرل عزیز نصیرزادہ کی جگہ لیں گے، جو امریکا اور صیہونی حکومت کے مجرمانہ حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں : دوسرے ممالک کے حکام ہماری مسلح افواج کی طاقت کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں، نامزد وزیر دفاع کے اجلاس میں صدر پزشکیان
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ نے بھی ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اس فیصلے کی خبر دی ہے۔ اجلاس سے قبل صدر مسعود پزشکیان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں نامزد وزیر کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اخلاقی کتابچی وزارت دفاع میں 42 سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔
صدر پزشکیان کے مطابق نئے وزیر دفاع امریکا کی پابندیوں کی زد میں ہیں اور ان کے بقول امریکا کی قتل کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ صدر نے اپنے خطاب میں قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن الرضا کی کارکردگی پر بھی اطمینان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت آئندہ بھی ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی رہے گی۔
واضح رہے کہ نئے وزیر دفاع کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایرانی فوجی حکام امریکا اور اسرائیل کو کسی بھی نئی جارحیت کے سخت جواب سے خبردار کر رہے ہیں۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق مسلح افواج نے کسی بھی نئی مہم جوئی کے لیے 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں سے زیادہ تباہ کن منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔