اسلام 24/7 : مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے الطیبہ میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے ہفتے کی شام یورپی سفارتکاروں کے ایک وفد پر حملہ کیا اور سفارتی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جس کے دوران بیلجیئم کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کا شیشہ توڑ دیا گیا۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ‘وفا’ کے مطابق لاٹھیوں سے مسلح کئی نقاب پوش آبادکاروں نے متعدد یورپی سفارتی مشنز کے وفود پر اس وقت حملہ کیا جب وہ الطیبہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، اور مسافروں اور سفارتکاروں سے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ ‘فلسطینی انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق حملے کا نشانہ فرانس، بیلجیئم اور پولینڈ کے سفارتکار بنے، جبکہ ویڈیو فوٹیج میں ایک قونصل کو زمین پر گرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسیم پریوو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بیلجیئم تشدد میں ملوث افراد اور ان کے حامیوں پر یورپی یونین کی پابندیوں کے لیے دباؤ جاری رکھے گا۔ ‘وفا’ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں کو نشانہ بنانے والا تشدد اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے، اور قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیلی حکام فلسطینیوں، سفارتکاروں اور صحافیوں کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔
‘وفا’ کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی حملے کو ’’ہولناک‘‘ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار آبادکاروں کی گرفتاری اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا، اور بتایا کہ شمالی فرانس کے قصبے اولنوئے ایمری کے 78 سالہ میئر برنار بودو پر بھی آبادکاروں نے تشدد کیا۔ ‘فلسطینی انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق یہ حملہ زیتون کی فصل کے موسم میں فلسطینی کسانوں پر آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے دوران ہوا، اور اس نے زیتون کے موسم کے تشدد کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
واضح رہے کہ الطیبہ میں آبادکار 7 اکتوبر کو بھی قصبے کے مشرق اور جنوب میں زرعی زمینوں میں گھس کر فلسطینیوں کے درختوں سے زیتون توڑ چکے تھے۔ ‘وفا’ کے مطابق یورپی کونسل نے اپنے سربراہی اجلاس کے بعد اسرائیل سے آبادکاری کی توسیع کے فیصلے فوری واپس لینے اور ‘ای ون’ علاقے میں تعمیراتی ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اور کمپنیوں کو اس منصوبے میں شامل ہونے سے خبردار کیا ہے۔