اسلام 24/7 : مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کے موسم میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ جمعہ کو رام اللہ کے شمال مشرق میں ترمسعیا قصبے کے مضافات میں آبادکاروں نے زیتون چننے والے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور تین گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
فلسطینی خبر رساں ادارے ‘وفا’ کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب فلسطینی علاقے میں زیتون چن رہے تھے، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھیں : فلسطینی آزادی کا راستہ عوام کی استقامت اور مزاحمت میں ہے، غزہ کے سابق مفتی اعظم سے ملاقات میں علامہ جواد نقوی
‘وفا’ کے مطابق نوآبادیات اور دیوار کے خلاف مزاحمت کے کمیشن نے جمعرات کو صرف 12 گھنٹوں میں فلسطینی کسانوں اور ان کی زمینوں پر 21 حملے ریکارڈ کیے، جن میں 13 حملے آبادکاروں نے اور آٹھ اسرائیلی فوج نے کیے۔ یہ حملے نابلس، رام اللہ و البیرہ، الخلیل، القدس، جنین اور سلفیت کے اضلاع میں ہوئے، اور سب سے زیادہ 12 واقعات نابلس میں ریکارڈ کیے گئے۔ کمیشن کے مطابق ان حملوں میں مارپیٹ، گرفتاریاں، کسانوں کو زمینوں سے نکالنا، فصل چوری کرنا اور درخت اکھاڑنا شامل ہے۔
‘وفا’ کے مطابق کفر مالک میں اسرائیلی فوج نے وسیع زمین ہموار کر کے سینکڑوں زیتون کے درخت اکھاڑ دیے، جبکہ نابلس کے شمال مغرب میں برقہ گاؤں میں آبادکاروں نے ایک کسان کا ٹریکٹر اور زیتون کی فصل چرا لی۔ الخلیل کے شمال میں بیت امر میں جمعرات کی رات مسلح آبادکاروں نے اسرائیلی فوج کی حفاظت میں گھروں پر حملہ کیا، فائرنگ کی اور کئی گھروں کو آگ لگانے کی کوشش کی، تاہم شہریوں نے مقابلہ کر کے انہیں روک دیا۔
کمیشن نے کہا کہ آبادکاروں کے حملے اور اسرائیلی فوج کے اقدامات زیتون کی فصل کے موسم کو کسانوں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں زمینوں سے بے دخل کرنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ‘وفا’ کے مطابق مغربی کنارے اور مشرقی القدس کی بستیوں میں تقریباً 10 لاکھ اسرائیلی آبادکار بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہ رہے ہیں۔