اسلام 24/7 : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایران کو ’’تمام بموں کی ماں‘‘ کہلانے والے امریکی بم سے دھمکانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک وحشی تہذیب ہی اپنے سب سے بھاری بم کے لیے ‘ماں’ جیسا مقدس لفظ استعمال کر سکتی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق جنرل محبی نے ہفتے کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں مزید لکھا: ’’مستقبل اس قوم کا ہے جو دشمن کی سب سے بڑی دھمکی کو گلی کوچوں کے مذاق میں بدل دیتی ہے‘‘۔
مزید پڑھیں : تمہارے بم کہیں اور پھٹیں گے، ہمارے میزائلوں نے مساوات بدل دی ہے، ایرانی وزیر دفاع کا امریکا کو جواب
‘مہر’ نے ایرانی ٹی وی ‘پریس ٹی وی’ کے حوالے سے بتایا کہ یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن کے مطابق امریکی فوج نے ایسے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں جن میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم ملنے پر ایرانی توانائی کے ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کے خلاف ‘جی بی یو 43/بی’ بم استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے ‘مدر آف آل بمز’ کہا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ امریکی ہتھیاروں میں سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے اور اس کا استعمال تہران اور واشنگٹن کی جنگ میں بڑی کشیدگی کا باعث بنے گا۔
‘پریس ٹی وی’ کے مطابق انہی رپورٹس میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں نئے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے ایسی کسی مجوزہ کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔ ‘مہر’ کے مطابق فوجی منصوبہ بندی سے واقف حکام کو اس بارے میں بھی شکوک ہیں کہ آیا یہ بم امریکا کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا یا نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن الرضا نے بھی اسی دھمکی کے جواب میں کہا تھا: ’’بموں کے نام اور حجم سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تمہارے بم کہیں اور پھٹیں گے؛ تمہاری عالمی ساکھ، امریکی معیشت اور تمہارے انتخابی حساب کتاب میں‘‘۔ ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق امریکا نے 28 فروری کو اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر ایران پر جارحیت شروع کی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں دشمن کے حساس اہداف پر کم از کم 100 لہروں میں جوابی حملے کیے اور 7 اپریل کو ٹرمپ نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔