ذمار میں سعودی کلسٹر بموں سے گھروں پر حملہ، 3 بچے شہید، 17 شہری زخمی؛ 24 گھنٹوں میں یمن پر 101 سعودی حملے

یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع

اسلام 24/7 : یمن کے صوبہ ذمار میں سعودی طیاروں نے بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بموں سے شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا، جس میں یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کی تازہ اطلاع کے مطابق تین بچے شہید اور 17 شہری زخمی ہو گئے۔

‘المسیرہ’ کے نامہ نگار کے مطابق سعودی طیاروں نے ضلع ضوران آنس کے علاقے قاع الحقل میں العار اور برزہ دیہات کے گھروں پر کلسٹر بم برسائے۔ ابتدائی اطلاع میں دو افراد کی شہادت اور پانچ بچوں اور تین خواتین سمیت 12 افراد کے زخمی ہونے کی خبر دی گئی تھی، جبکہ بعد کی اطلاع میں شہداء کی تعداد تین بچے اور زخمیوں کی تعداد 17 بتائی گئی۔ ‘المسیرہ’ کے مطابق ایک زخمی خاتون کا حمل ضائع ہو گیا، جبکہ حملے میں تین گھروں کو نقصان پہنچا، ایک سولر سسٹم تباہ ہوا اور مویشی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں : یمن پر 24 گھنٹوں میں 119 سعودی حملے، تعز میں لڑکیوں کے اسکول اور طبی مرکز پر بمباری؛ 3 ستمبر سے 107 شہری جاں بحق

یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سعودی افواج نے صنعا اور الضالع، تعز، حدیدہ، ذمار، مارب، صعدہ، الجوف، عمران اور لحج کے صوبوں میں شہری مقامات پر 101 فضائی اور میزائل حملے کیے۔ ان کے مطابق یہ حملے خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے اڑنے والے ایف 15 اور ٹائفون طیاروں نے کیے، جبکہ میزائل نجران سے داغے گئے، اور کشیدگی کے آغاز سے اب تک ایسے حملوں کی تعداد 2,489 ہو گئی ہے۔

‘المسیرہ’ کے مطابق تعز کے ضلع الوازعیہ میں سعودی طیاروں نے ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا، جس میں ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوئیں، اور اس کے بعد ضلع صبر الموادم میں الشرف اسکول پر حملہ کیا گیا۔ صعدہ کے ضلع شدا میں ایک بازار پر سعودی گولہ باری سے شدید زخمی ہونے والا شہری بعد میں دم توڑ گیا۔ ہفتے کی صبح بھی صعدہ کے اضلاع ساحر، رازح اور شدا پر سعودی فضائی حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات ملیں۔

واضح رہے کہ یمنی وزارت صحت و ماحولیات کے مطابق 3 ستمبر سے 15 اکتوبر تک سعودی حملوں میں 114 افراد شہید اور 305 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اور یہ متاثرین 13 صوبوں میں ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top