اسلام 24/7 : یمن کی مسلح افواج کے مطابق سعودی عرب نے پیر کو 24 گھنٹوں کے دوران صنعا اور الجوف، تعز، صعدہ، مارب، لحج، البیضاء اور اب صوبوں پر 119 فضائی اور میزائل حملے کیے۔ یمنی وزارت صحت نے بتایا کہ 3 ستمبر سے 12 اکتوبر تک سعودی حملوں میں 385 افراد نشانہ بنے، جن میں 107 جاں بحق اور 278 زخمی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق یمنی وزارت صحت نے بتایا کہ صوبہ تعز کے ضلع جبل حبشی کے علاقے القحاف میں لڑکیوں کے ایک اسکول اور ایک طبی مرکز پر سعودی حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں : صنعا میں رہائشی گھر پر سعودی حملہ، ایک بچہ شہید اور 6 زخمی؛ 3 ستمبر سے 272 شہری نشانہ بنے
یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق پیر کی صبح صنعا کے ضلع الثورہ میں ایئرپورٹ اسٹریٹ کے ایک رہائشی محلے اور صنعا صوبے کے ضلع ہمدان پر حملے کیے گئے۔ تعز میں ایک گھر کے اندر نصب بارودی سرنگ پھٹنے سے سات بچے زخمی ہوئے، جبکہ المسراخ اور صبر الموادم کے اضلاع میں گولہ باری سے ایک بچہ اور ایک بچی جان سے گئے۔
مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ حملے خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے اڑنے والے ایف 15 اور ٹائیفون طیاروں نے کیے، جبکہ نجران اور جازان سے میزائل داغے گئے۔ ان کے بقول موجودہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک ایسے حملوں کی تعداد 2,177 ہو چکی ہے۔ ‘مہر’ کے مطابق منگل کو بھی سعودی طیاروں نے صعدہ کے ضلع مران اور الغمر کے سرحدی علاقے میں مواصلاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا۔
وزارت صحت کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں، اور سب سے زیادہ جانی نقصان تعز، صعدہ اور الجوف میں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ 3 ستمبر سے یمن پر سعودی حملوں میں تیزی آئی ہے، اور صنعا نے شہری علاقوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔