اسلام 24/7 : آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیا میں تعامل اور اعتماد سازی کے اقدامات کی کانفرنس ‘سیکا’ کے اجلاس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی تقریر شروع ہوتے ہی ایران سمیت 13 ممالک کے وفود ہال سے باہر چلے گئے، جبکہ ایران نے اسرائیل کو اس فورم سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ اور ایرانی ٹی وی ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق واک آؤٹ کرنے والوں میں ایران کے ساتھ فلسطین، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، عراق، مصر، کویت، قطر، اردن، ملائیشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کے وفود شامل تھے۔ ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق یہ 13 وفود اجلاس میں شریک 28 وفود میں سے تقریباً نصف تھے۔
مزید پڑھیں : جنگ بندی کے دوران غزہ میں 1,076 فلسطینیوں کے قتل کی تصدیق، 268 بچے بھی شامل، اقوام متحدہ
‘پریس ٹی وی’ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اجلاس سے خطاب میں رکن ممالک پر زور دیا کہ اسرائیل کو ‘سیکا’ سے نکال دیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کو ’’ایشیا میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ‘‘ قرار دیا اور رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ ’’اس حکومت کے جرائم پر خاموش نہ رہیں‘‘۔
غریب آبادی نے امریکا اور اسرائیل کو ’’دنیا میں عدم تحفظ اور لاقانونیت کے سب سے بڑے ذرائع‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے انہیں نہ روکا تو ان کی جارحیت تمام آزاد ممالک تک پھیل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر عالمی میکانزم کو کمزور کیا، جبکہ اسرائیل، جو تخفیف اسلحہ کے عالمی معاہدوں کا فریق نہیں، مختلف قسم کے وسیع تباہی کے ہتھیار تیار کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق باکو کا یہ واک آؤٹ 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے احتجاج سے مشابہ تھا، جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز پر تقریباً 70 ممالک کے وفود ہال سے چلے گئے یا انہوں نے اپنی نشستیں خالی چھوڑ دیں۔