اسلام 24/7 : ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایرانی قوم کے ناقابل تنسیخ حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندیاں جاری رہیں گی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق جنرل حاتمی نے جمعرات کی رات تہران میں امام علیؑ آفیسرز اکیڈمی کی مسجد میں 11ویں قومی اعتکاف کانگریس کی اختتامی تقریب سے خطاب میں کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں ہے۔ ان کے مطابق آبنائے کا مغربی حصہ سپاہ پاسداران کی بحریہ اور مشرقی حصہ اور بحیرہ عمان فوج کی بحریہ کے کنٹرول میں ہے۔
مزید پڑھیں : آبنائے ہرمز بند ہے، ہر گزرگاہ کے لیے ہم آہنگی ضروری ہے، ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ایڈمرل سیاری
ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ آبنائے کے کھلے ہونے کے دعوے جھوٹے ہیں۔ ان کے مطابق آمد و رفت سختی سے محدود کر دی گئی ہے اور کوئی دشمن جہاز اس علاقے میں ایرانی سمندری حدود میں داخل نہیں ہو سکا، سوائے چند کے جن پر متعدد بار فائرنگ کی گئی۔
جنرل حاتمی نے ایران کی طاقت کے چار ستون ’’عوام، مسلح افواج، حکومتی ڈھانچے اور جغرافیائی و سیاسی محل وقوع‘‘ قرار دیے اور کہا کہ ان سب نے دشمن کے اندازوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا: ’’مسلح افواج نے دشمن کو پوری قوت سے جواب دیا، اور جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی دشمن کے ٹھکانوں کی جانب میزائلوں کی بوچھاڑ کی گئی‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج اور سپاہ پاسداران نے بڑی تعداد میں کمانڈروں اور عہدیداروں کی شہادت کے باوجود اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ جنرل حاتمی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی عوام اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ازخود میدان میں آئے، اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اس پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ ‘مہر’ کے مطابق 28 فروری کو امریکی اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے جواب میں ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کا آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ایرانی حکام کی اجازت کے بعد صرف غیر معاندانہ جہاز ہم آہنگی کے ساتھ گزر سکتے ہیں، جبکہ جارحین سے منسلک جہاز رانی پر پابندی ہے۔