اسلام 24/7 : ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف اور ڈپٹی کوآرڈینیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس سے کسی بھی جہاز کے گزرنے کے لیے ہم آہنگی ضروری ہے۔
خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق ایڈمرل سیاری نے جمعرات کو فوج کی نرسوں کے اعزاز میں تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر آبنائے بند نہ ہوتی اور تیل گزر رہا ہوتا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھتیں، اور یہ بات بالکل واضح ہے۔
مزید پڑھیں : آبنائے ہرمز میں 2,500 سے زائد کنٹینرز والا جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا، سپاہ پاسداران بحریہ
انہوں نے بتایا کہ سپاہ پاسداران کی بحریہ آبنائے ہرمز کے مغرب میں مضبوطی سے تعینات ہے، جبکہ ایرانی فوج آبنائے کے مشرق سے بحیرہ عمان کے شمال تک مکمل اختیار کے ساتھ موجود ہے اور پورے علاقے پر نگرانی کر رہی ہے۔ ایڈمرل سیاری نے خبردار کیا کہ ہر گزرگاہ کے لیے ہم آہنگی ضروری ہے، ’’ورنہ آپ خبروں میں دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہوتا ہے‘‘۔
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ نے سکیورٹی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ اتوار سے آبنائے ہرمز میں یا اس کے قریب کم از کم 10 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کو چھ اور منگل کو چار جہاز نشانہ بنے، جبکہ اکتوبر کے آغاز سے اب تک 23 واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں، جو جنگ کے آغاز سے ماہانہ اوسط کا تقریباً دگنا ہے۔
‘المنار’ کے مطابق ایران مارچ سے ان تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو تہران کے منظور شدہ راستوں کے بجائے دوسرے راستے اختیار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ بدھ کو سپاہ کی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ غیر مجاز راستہ اختیار کرنے والا 2,500 سے زائد کنٹینرز والا جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا۔