اسلام 24/7 : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی اور مذاکرات دونوں ڈیٹرنس حاصل کرنے کے ذرائع ہیں، اور امریکا کو سزا ملنی چاہیے تاکہ وہ ایران کے مطالبات تسلیم کرے یا شکست مان کر رعایتیں دے۔
خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق قالیباف نے بدھ کی شام نشر ہونے والے ٹیلی ویژن انٹرویو میں اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا: ’’اگر امریکا کسی دستخط شدہ دستاویز میں وعدے قبول بھی کر لے، تب بھی یہ بذات خود ایران پر ایک اور حملے کو نہیں روکے گا‘‘۔
مزید پڑھیں : امریکا اور ایران تحمل سے کام لیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں، صدر آصف علی زرداری
قالیباف نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی میں فوجی تیاری اور مذاکرات کو یکجا کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار ڈیٹرنس قائم ہو۔ انہوں نے ایران عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی قیمت اور مشکلات کے باوجود ایران نے ایسے حالات پیدا کیے جنہوں نے دہائیوں تک ملک پر حملوں کو روکے رکھا۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق 12 روزہ جنگ اور حالیہ جنگ کے درمیان ایران کی فائر پاور، جارحانہ صلاحیت اور فضائی دفاع میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ڈیٹرنس کے دیگر عوامل میں خطے کی مزاحمتی تحریکوں کی صلاحیتوں، آبنائے ہرمز پر ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن، قومی اتحاد اور معاشی و سماجی استحکام کا ذکر کیا۔
قالیباف نے کہا کہ فوجی کامیابیوں کو سیاسی اور قانونی کامیابیوں میں بدلنا چاہیے، جبکہ مذاکرات ایران کو اپنی صلاحیتیں مضبوط کرنے کے لیے وقت اور وسائل فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور مذاکرات کو یکجا کرنے کا مطلب نہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے اور نہ مستقل مذاکرات، بلکہ مقصد فریق مخالف کو ایران کے مطالبات ماننے پر مجبور کرنا ہے۔
واضح رہے کہ قالیباف نے قومی اتحاد برقرار رکھنے اور ملک کی فوجی، معاشی اور سفارتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا، اور کہا کہ موجودہ وسائل کو عوام پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔