امریکا اور ایران تحمل سے کام لیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں، صدر آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری اسلام آباد میں روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف سے ملاقات کرتے ہوئے

اسلام 24/7 : صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جائیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کے مطابق صدر زرداری نے یہ بات اسلام آباد میں روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف سے ملاقات میں کہی۔ انہوں نے خلیج میں بڑھتی کشیدگی، خاص طور پر بحری آمد و رفت، توانائی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں : فلسطینی آزادی کا راستہ عوام کی استقامت اور مزاحمت میں ہے، غزہ کے سابق مفتی اعظم سے ملاقات میں علامہ جواد نقوی

صدر نے کہا کہ یہ تنازع علاقائی استحکام، عالمی توانائی سلامتی، تجارت اور سپلائی چینز کے لیے سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں محفوظ بحری آمد و رفت کی اہمیت اجاگر کی۔

ملاقات میں صدر زرداری نے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، صنعتی ترقی، علاقائی رابطوں اور انسداد دہشت گردی میں تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے مالی سال میں 243.4 ملین ڈالر کی دوطرفہ تجارت اپنی صلاحیت سے کم ہے، اور دونوں ممالک کی قیادت کی خیرسگالی کو ٹھوس نتائج میں بدلنا چاہیے۔ روسی وزیر داخلہ نے اتفاق کیا کہ تجارت کا حجم تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون میں پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان طے پائی تھی، اور ایران اس پر مکمل عمل درآمد کو اپنی بنیادی شرائط میں شامل کرتا ہے۔ روسی وزیر داخلہ پاکستان کے چار روزہ دورے پر ہیں، جو کسی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top