اسلام 24/7 : حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے لبنانی حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ ضہر البیدر چیک پوسٹ پر مزاحمت کی ایک گاڑی روکے جانے کے واقعے کو مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے گاڑی اور اس کا سامان واپس کرنے اور حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق حسن فضل اللہ نے بیان میں کہا کہ گاڑی روکے جانے کے فوراً بعد مزاحمت نے متعلقہ سکیورٹی اور عدالتی حکام سے رابطہ کر کے بتا دیا تھا کہ گاڑی اور اس کا سامان مزاحمت کا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو مزاحمت جنوب میں ہماری سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے مقابلے میں استعمال کرتی ہے‘‘۔
مزید پڑھیں : اگر ضہر البیدر کی گاڑی مزاحمت کی ہے تو مزاحمت کو نہ کوئی شرمندگی ہے نہ ندامت، حزب اللہ رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی
حسن فضل اللہ کے مطابق مزاحمت نے ابتدا میں داخلی سکون برقرار رکھنے اور اسرائیلی دشمن کو اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے معاملہ خاموشی سے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن حکام کے طرز عمل نے انہیں مؤقف واضح کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سامان صرف اسرائیلی قبضے کے مقابلے کے لیے تھا اور 1982 سے دھماکہ خیز آلات مزاحمتی گروہوں کی فوجی صلاحیت کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر چلائی جانے والی سیاسی اور میڈیا مہم کو اسرائیلی دشمن کے مفاد میں قرار دیا۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے مزاحمت سے متعلق 2 مارچ کے حکومتی فیصلے کو غیر آئینی اور قومی میثاق کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارے عوام کے لیے یہ کالعدم فیصلہ ہے اور ہم زمین پر اس کے کسی اثر کو تسلیم نہیں کرتے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کی قانونی حیثیت اسرائیلی قبضے کے مقابلے میں اس کے کردار سے ہے، نہ کہ ایسی حکومت کے فیصلوں سے جو لبنان کی خودمختاری کے دفاع کی ذمہ داری چھوڑ چکی ہو۔
حسن فضل اللہ نے لبنانی حکام کو امریکی اور اسرائیلی مطالبات پر عمل کرنے سے خبردار کیا اور کہا کہ ایسی پالیسیاں قومی استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اس حکومت کو اپنے اقدامات پر اصرار کے نتائج سے خبردار کرتے ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت اپنے عوام اور اپنی فوجی صلاحیتوں کا ہر اندرونی کوشش کے مقابلے میں دفاع کرے گی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ضہر البیدر میں داخلی سلامتی فورسز کی چوکی پر ایک گاڑی روکی گئی تھی، جس کے بعد حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی نے بھی کہا تھا کہ اگر گاڑی مزاحمت کی ہے تو مزاحمت کو اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔