فیئر فورڈ الزامات: ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کر لیا، ثبوت نہ ملے تو دوطرفہ تعلقات پر نظرثانی کا انتباہ

تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کی عمارت

اسلام 24/7 : ایران نے برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں مبینہ واقعے سے تہران کو جوڑنے کے برطانوی الزامات پر تہران میں برطانیہ کے سفیر ہیوگو شارٹر کو وزارت خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ثبوت پیش نہ کیے گئے تو دوطرفہ تعلقات پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے معاون وزیر اور مغربی یورپ کے ڈائریکٹر جنرل علیرضا یوسفی نے برطانوی سفیر سے ملاقات میں برطانیہ کے ’’غیر ذمہ دارانہ اور تباہ کن رویے‘‘ پر ایران کا سخت احتجاج پہنچایا۔

مزید پڑھیں : فیئر فورڈ واقعے سے ایران کو جوڑنا بے بنیاد سازش ہے، برطانیہ نتائج کا ذمہ دار ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ

علیرضا یوسفی نے برطانوی حکومت کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکام الزام دوسروں پر ڈال کر اور تہران پر بے بنیاد الزامات لگا کر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی جارحیت میں شرکت اور ایران مخالف دہشت گرد گروہوں کی طویل عرصے سے میزبانی کا ذمہ دار ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت فیئر فورڈ کے مبینہ واقعے سے متعلق اپنے الزامات کے ثبوت اور دستاویزات بلا تاخیر پیش کرے، ورنہ اسلامی جمہوریہ ایران دوطرفہ تعلقات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر ہوگی۔ ‘مہر’ کے مطابق برطانوی سفیر نے کہا کہ وہ ایران کا مؤقف اپنے ملک کے حکام تک پہنچا دیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان برطانوی الزامات کو ایران مخالف مہم آگے بڑھانے کی ‘فالس فلیگ’ سازش قرار دیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top