اسلام 24/7 : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں واضح اعلان کیا ہے کہ ایران کا مؤقف بالکل دوٹوک ہے؛ جب تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ 7 شرائط پر عمل نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔
اپنے خطاب کی ابتدا میں انہوں نے ‘پولیس ہفتے’ کے موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور مسلح افواج کے جوانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا پارلیمنٹ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
محمد باقر قالیباف نے ناگویا ایشین گیمز میں ایرانی دستے کی شاندار کارکردگی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی ایتھلیٹس نے مجموعی طور پر 52 تمغے اپنے نام کیے ہیں، جبکہ خواتین کھلاڑیوں نے 3 گولڈ میڈلز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
مزید پڑھیں : ایران کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ‘پارس 2’ مکمل، لانچنگ کی تیاری
7 اکتوبر کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے اسے خطے کی تاریخ کا اہم ترین موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی سیکیورٹی کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھرم توڑ دیا۔ اب وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات مزید واضح ہو رہے ہیں اور اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایرانی عوام کی استقامت نے واشنگٹن کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے کچھ تجاویز بھیجی ہیں، لیکن اب یکطرفہ مطالبات مسلط کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ امریکی حکام ایک طرف مذاکرات کی رٹ لگاتے ہیں اور دوسری طرف فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ان متضاد بیانات کا اصل مقصد ایرانی عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کر کے ملکی فیصلہ سازی کو متاثر کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کی پالیسیاں امریکی حکام کے روزمرہ بیانات یا سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر نہیں بناتا، بلکہ دشمن کے عملی اقدامات کو دیکھ کر حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔ ایران کا طرزِ عمل طاقت اور دانشمندی پر مبنی ہے، اس لیے ہم نہ تو خوف کا شکار ہوں گے اور نہ ہی جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ کریں گے۔
خطاب کے آخر میں اسپیکر کا کہنا تھا کہ ایران عسکری میدان میں پوری طرح مستعد ہونے کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کا راستہ بھی اختیار کرے گا تاکہ اپنے حقوق اور فوجی برتری کو تسلیم کروا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر وہی فریق کامیاب ہوتا ہے جو جنگ کے لیے بھی پوری طرح تیار ہو۔ اس وقت ایران اور اس کے اتحادی اپنی طاقت کے عروج پر ہیں اور ملک دفاعی و قومی یکجہتی کے لحاظ سے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔