اسلام 24/7 : بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا بدستور جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خسرہ جیسی علامات کے باعث مزید 7 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کے بعد 15 مارچ سے اب تک اموات کی مجموعی تعداد 1,162 ہو گئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے آج اتوار کو جاری روزانہ رپورٹ میں یہ اعداد و شمار بتائے۔
بنگلہ دیشی اخبار ‘دی بزنس اسٹینڈرڈ’ کے مطابق مجموعی اموات میں سے 104 کی لیبارٹری سے خسرہ کی تصدیق ہوئی جبکہ 1,058 اموات مشتبہ کیسز میں ہوئیں۔ اتوار کی صبح 8 بجے تک کے 24 گھنٹوں میں 1,180 نئے مشتبہ کیسز سامنے آئے، جس کے بعد ملک بھر میں مشتبہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ 5 ہزار 28 ہو گئی ہے۔ اسی دوران 93 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 22,421 تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں : صومالیہ میں پہلی قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا، 2030 تک علاج کی سہولیات بڑھانے کا منصوبہ
نیوز ویب سائٹ ‘بارتا 24’ کے مطابق تازہ اموات میں سے تین سلہٹ ڈویژن میں جبکہ ایک ایک ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا اور رنگپور ڈویژن میں ہوئی۔ محکمہ صحت کے مطابق 15 مارچ سے اب تک خسرہ کے ایک لاکھ 82 ہزار 47 مشتبہ مریض اسپتالوں میں داخل کیے گئے، جن میں سے ایک لاکھ 74 ہزار 469 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
خسرہ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کو ڈینگی کا بھی سامنا ہے۔ ڈی جی ایچ ایس کی ہفتے کو جاری رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں میں ڈینگی سے 4 افراد جاں بحق اور 1,631 مریض اسپتالوں میں داخل ہوئے، جس کے بعد رواں سال ڈینگی سے اموات کی تعداد 299 اور اسپتال پہنچنے والے مریضوں کی تعداد 97,082 ہو گئی ہے۔ سب سے زیادہ 703 نئے مریض ڈھاکہ ڈویژن میں سامنے آئے۔
واضح رہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بچوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتی ہے، جبکہ ویکسینیشن اس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے وبا کے پھیلاؤ کے بعد رواں سال اپریل میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کی تھی۔